بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سود

پراویڈنٹ‌فنڈ‌میں‌جو‌اِضافی‌رقم‌شامل‌کی‌جاتی‌ہے‌وہ‌جائز‌ہے،‌لیکن‌اپنے‌اِستعمال‌میں‌نہ‌لانا‌بہتر‌ہے

سوال:۔

چند ماہ قبل پراویڈنٹ فنڈ کی رقم کے سلسلے میں ایک سوال کے جواب میں آپ کا یہ اِرشاد نظر سے گزرا تھا، آپ کا جواب ’’جنگ‘‘ اخبار میں چھپا تھا، پراویڈنٹ فنڈ کی رقم جو آجر اپنے ملازموں کو ریٹائرمنٹ پر دیتے ہیں کیا اس کا لینا اور اِستعمال کرنا جائز ہے؟ آپ کا جواب ’’جائز‘‘ ہے۔

میں ۳۱؍دسمبر ۱۹۹۴ء کو ملازمت سے ریٹائر ہوگیا ہوں، کمپنی والوں نے مجھے میرے پراویڈنٹ فنڈ کی تفصیل دی ہے، جو اس خط کے ساتھ منسلک کر رہا ہوں، اِطلاعاً عرض ہے کہ جو رقم فائدہ (Interest) کی شکل میں دِکھائی گئی ہے وہ میری اور کمپنی کی (Contributions) دونوں کو کمپنی نے اپنے ملازموں کو فائدہ پہنچانے کے لئے اپنے کاروبار میں لگاکر حاصل کی ہے، اور اس میں سے میرے حصے کی رقم تحریر کردی گئی ہے، اگر ممکن ہو تو اس خط کے پشت پر اَزرَاہِ کرم اپنا تفصیلی جواب کہ آیا منسلک شدہ کاغذ پر پراویڈنٹ فنڈ کی جو رقم درج ہے اسے میں اپنے مصرف میں لاسکتا ہوں کہ نہیں؟

جواب:۔

انگریزی تو یہ ناکارہ جانتا نہیں، اس لئے منسلکہ پرچہ تو میرے لئے بے کار ہے، باقی پراویڈنٹ فنڈ کے بارے میں مسئلہ وہی ہے جو لکھ چکا ہوں کہ اس میں جو اِضافی رقم شامل کی جاتی ہے، اس کا لینا جائز ہے، البتہ اس پر اگر سود کی رقم شامل کی گئی ہو تو بہتر یہ ہے کہ اس کو اپنے اِستعمال میں نہ لایا جائے، بلکہ کسی مستحق کو بغیر نیتِ ثواب کے دے دی جائے،(۱) واللہ اعلم!

  1. (۱) والحاصل: أنہ إن علم أرباب الأموال وجب ردہ علیھم وإلّا فإن علم عین الحرام لَا یحل لہ ویتصدق بہ بنیۃ صاحبہ۔ (فتاویٰ شامی ج:۵ ص:۹۹، طبع سعید)۔ ویتصدق بلا نیۃ الثواب وینوی بہ برائۃ الذمۃ۔ (قواعد الفقہ ص:۱۱۵)۔