سود
پراویڈنٹفنڈکیرقمسےسودیقرضلینا
سوال:۔
ہم لوگ پی آئی اے میں ملازم ہیں، ہماری تنخواہ سے ہر ماہ کچھ رقم پراویڈنٹ فنڈ کے نام سے کاٹ لی جاتی ہے، اس رقم کے بارے میں یہ طریقۂ کار ہے کہ ہر سال جتنی رقم ہماری تنخواہ سے کاٹی جاتی ہے اتنی ہی رقم کارپوریشن اپنی طرف سے شامل کرلیتی ہے، اور پھر ان دونوں رُقوم پر سود مفرد لگایا جاتا ہے، نیز ملازمت کے روز سے لے کر اَب تک اس مد میں جمع شدہ کل رقم پر ہر سال سود مرکب بھی لگایا جاتا ہے، یہ عمل ہر سال ہوتا ہے، اگر کسی موقع پر ہم کاروپوریشن سے قرض لیتے ہیں تو اس جمع شدہ رقم سے قرض دیا جاتا ہے اور پھر اصل رقم کے ساتھ سود کو واپس لیا جاتا ہے، جب ہم ملازمت چھوڑیں گے یا ریٹائرڈ ہوجائیں گے تو یہ رقم مع سود ہمیں مل جائے گی۔ کیا یہ طریقۂ کار قرآن وسنت کی روشنی میں دُرست ہے؟
جواب:۔
’’پراویڈنٹ فنڈ‘‘ کے نام سے جو رقم کارپوریشن کی طرف سے دی جاتی ہے وہ تو جائز ہے،(۱) لیکن اس رقم میں سے سودی قرض لینا دینا جائز نہیں۔(۲)
- (۱) قولہ: بالتعجیل أو بشرطہ أو بالْإستیفاء أو بالتمکن یعنی لَا یملک الأجرۃ إلّا بواحد من ھٰذہ الأربعۃ، والمراد انہ لَا یستحقھا الموجر إلّا بذٰلک۔ (البحر الرائق ج:۷ ص:۵۱۱ کتاب الْإجارۃ، طبع رشیدیہ)۔
- (۲) ﵟ وَأَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلۡبَيۡعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰاْۚ ﵞ البقرة ٢٧٥۔ کل قرض جر نفعًا فھو حرام۔ (رد المحتار، فصل فی القرض ج:۵ ص:۱۶۶ طبع سعید)۔

