بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سود

ملازمین‌کو‌جو‌رقم‌پراویڈنٹ‌فنڈ‌میں‌سود‌کے‌نام‌سے‌ملائی‌ہوئی‌ملتی‌ہے‌وہ‌جائز‌ہے

سوال:۔

میں پاکستان اسٹیل میں ملازم ہوں، پراویڈنٹ فنڈ میں جو رقم اِدارے کی طرف سے ملائی جاتی ہے، اس کو سود سمجھتے ہوئے میں نے درخواست اِدارے میں جمع کرادی تھی کہ مجھے سود سے بری الذمہ قرار دے دیا جائے، اور میرے پیسے میں سود نہ ملایا جائے، یعنی میں نے اس زائد رقم کو سود سمجھا، آپ کے ’’جنگ‘‘ میں شائع شدہ فتوے سے صحیح صورتِ حال کا علم ہوا، آنجناب اپنا فتویٰ دوبارہ تحریر فرمادیں کہ اسے اِدارے میں پیش کیا جاسکے۔

جواب:۔

پراویڈنٹ فنڈ کے مسئلے پر حضرت مفتی محمد شفیعؒ کا ایک رسالہ ہے، اس میں فرمایا ہے کہ ملازمین کا جو پراویڈنٹ فنڈ کاٹا جاتا ہے اور ملازمت سے فارغ ہونے کے بعد ان پر سود کے نام سے جو رقم دی جاتی ہے وہ شرعاً سود نہیں، لیکن اگر ملازم نے خود کٹوایا تو اس پر جو زائد رقم ’’سود‘‘ کے نام سے ملتی ہے، وہ سود تو نہیں، لیکن سود کے مشابہ ہے، اس سے اِحتراز کیا جائے تو بہتر ہے۔

میرے فتوے کے بجائے وہ رسالہ خرید کر پیش کیا جائے۔