بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سود

کسی‌ادارے‌یا‌بینک‌میں‌رقم‌جمع‌کروانا‌کب‌جائز‌ہے؟

سوال:۔

اخبارات و اشتہارات میں مختلف کمپنیاں اور ادارے اشتہار دیتے ہیں کہ آپ ہمارے ساتھ سرمایہ کاری کریں، کوئی ۴ فیصد اور کوئی ۵ فیصد منافع دینے کا اقرار کرتا ہے۔ آیا ایسا منافع جائز ہے؟ بینک میں نفع و نقصان شراکت کھاتے سے حاصل شدہ منافع، این ڈی ایف سی اور نیشنل سیونگ اسکیم سے حاصل شدہ منافع جائز ہے؟ جبکہ ہمارا صرف روپیہ ہی لگا ہے، محنت نہیں۔

جواب:۔

ان دونوں سوالوں کا جواب سمجھنے کے لئے ایک اُصول سمجھ لیجئے۔ وہ یہ کہ جو روپیہ آپ کسی فرد، کمپنی یا ادارے کو کاروبار کے لئے دیں، اس کا منافع آپ کے لئے دو شرطوں کے ساتھ حلال ہے، وہ یہ کہ وہ کاروبار شرعاً جائز ہو، اگر کوئی ادارہ آپ کے روپے سے ناجائز کاروبار کرتا ہے تو اس کا منافع آپ کے لئے حلال نہیں۔(۱) دُوسری شرط یہ ہے کہ اس ادارے نے آپ کے ساتھ منافع فیصد تقسیم کا اُصول طے کیا ہو۔(۲) اگر منافع کی فیصد تقسیم کے بجائے آپ کو اصل رقم کا فیصد منافع دیتا ہے تو یہ حلال نہیں بلکہ شرعاً سود ہے۔(۳) اس اُصول کو آپ مذکورہ سوالوں پر منطبق کرلیجئے۔

  1. (۱) ما حرم فعلہ حرم طلبہ۔ (شرح المجلۃ ص:۳۴)۔
  2. (۲) وشرطھا ۔۔۔ کون الربح بینھما شائعًا۔ (درمختار ج:۵ ص:۶۴۸، کتاب المضاربۃ، طبع سعید)۔ ومن شرطھا أن یکون الربح بینھما مشاعًا لَا یستحق أحدھما دراھم مسماۃ من الربح لأن شرط ذٰلک یقطع الشرکۃ بینھما ولَا بد منھا کما ھی فی عقد الشرکۃ۔ (الھدایۃ، کتاب المضاربۃ ج:۳ ص:۳۵۸، طبع شرکت علمیۃ ملتان)۔
  3. (۳) ومن شروطھا کون نصیب المضارب من الربح حتّٰی لو شرط لہ من رأس المال أو منہ ومن الربح فسدت۔ (درمختار ج:۵ ص:۶۴۸)۔ وفی جمع العلوم الربا شرعًا عبارۃ عن عقد فاسد ولم یکن فیہ زیادۃ ۔۔۔إلخ۔ (بحر الرائق ج:۶ ص:۱۲۵ باب الربا، طبع دار المعرفۃ، بیروت لبنان)۔