بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سود

تجارتی‌مال‌کے‌لئے‌بینک‌کو‌سود‌دینا

سوال:۔

تجارتی مال دُوسرے ممالک سے بینک کے ذریعے منگوایا جاتا ہے، اور بینک کی بنیاد سود پر ہے، مال بھیجنے والا جب کاغذات تیار کرکے اپنے بینک میں جمع کراتا ہے تو ان کو یہاں بینک پہنچنے میں تقریباً ۸، ۱۰ روز لگ جاتے ہیں، یہاں کے بینک والے اس عرصے کا سود لیتے ہیں جو مجبوراً مال منگوانے والے کو دینا پڑتا ہے۔ آپ مہربانی فرماکر وضاحت فرمائیں کہ اگر بینک سے ہی کسی طریقے سے سود لے کر اسی کو یہ ۸، ۱۰ روز کا سود دے دیا جائے تو کیا ایسا کرنا جائز ہوگا؟

جواب:۔

سود لینے اور دینے کا گناہ ہوگا، اِستغفار کیا جائے۔(۱)

  1. (۱) عن جابر رضی اللہ عنہ قال: لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آکل الربا وموکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال ھم سواء۔ (صحیح مسلم ج:۲ ص:۲۷ باب الربا)۔ عن عبداللہ بن حنظلۃ غسیل الملائکۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: درھم الربا یأکلہ الرجل وھو یعلم أشد من ستّۃ وثلاثین زنیۃً۔ (مجمع الزوائد ج:۴ ص:۱۱۷ کتاب البیوع، باب ما جاء فی الربا)۔ قَالَ تَعَالَى ﵟ أَفَلَا يَتُوبُونَ إِلَى ٱللَّهِ وَيَسۡتَغۡفِرُونَهُۥۚ وَٱللَّهُ غَفُورٞ رَّحِيمٞ ﵞ المائدة ٧٤۔