سود
۱۰ہزارروپےنقددےکر۱۵ہزارروپےکرایہکیرسیدیںلینا
سوال:۔
ہمارے بازار میں ایک شخص کو رقم کی ضرورت تھی، اس کی اپنی مارکیٹ ہے، جس میں چار دُکانیں ہیں، اور ایک دُکان کا کرایہ ۵۰۰ روپے ماہوار ہے، تو اس شخص کو بازار کے ایک دُکان دار نے ۱۰ ہزار روپے دئیے اور اس سے ۱۵ ہزار روپے کے کرایہ کی رسیدیں لے لیں، یعنی ۳۰ رسیدیں پانچ پانچ سو روپے کے کرایہ کی، یعنی ۵ہزار روپے زیادہ لئے۔ اب یہ شخص تقریباً سات مہینے ان دُکانوں کا کرایہ وصول کرکے ۱۵ ہزار روپے وصول کرے گا۔ یہاں بازار میں تقریباً سارے دُکان دار کہتے ہیں کہ یہ سود ہے، لیکن یہ شخص کہتا ہے کہ یہ سود نہیں ہے، اس شخص نے حج بھی کیا ہے اور پانچ وقتہ نمازی بھی ہے۔
جواب:۔
جب اس شخص نے ۱۰ ہزار روپے کی جگہ ۱۵ ہزار روپے لے لیا ہے تو یہ سود نہیں تو اور کیا ہے؟(۱)
- (۱) باب الربا ھو فضل مال بلا عوض فی معاوضۃ مال بمال أی فضل أحد المتجانسین علی الآخر ۔۔۔إلخ۔ (البحر الرائق ج:۶ ص:۱۳۵، طبع دار المعرفۃ بیروت)۔ أیضًا: وھو فی الشرع عبارۃ عن فضل مال لَا یقابلہ عوض فی معاوضۃ مال بمال۔ (عالمگیری ج۳ ص:۱۱۷، کتاب البیوع، الباب التاسع، الفصل السادس)۔

