سود
قرآنمجیدکیطباعتکرنےوالےادارےمیںجمعشدہرقمکامنافع
سوال:۔
ایک تجارتی ادارہ جو کہ قرآنِ پاک کی طباعت و مکمل تیاری اور اس کو ہدیہ کرنے کا کاروبار کرتا ہے، مندرجہ ذیل شرائط پر دُوسرے لوگوں کو حصہ دار بناتا ہے، صرف منافع کی مختلف شرح پر۔ کیا ’’الف‘‘ اس تجارتی ادارہ کے حصص خرید سکتا ہے؟ اس کا نفع حلال ہے؟ شرائط یہ ہیں:
۱:۔ رقم کم سے کم تین سال کے لئے جمع کی جائے گی۔
۲:۔ نئے ڈیپازیٹرز سے کم سے کم رقم دس ہزار قبول کی جائے گی، زیادہ جتنی چاہیں جمع کراسکتے ہیں۔
۳:۔ دس ہزار سے ۴۹ ہزار تک منافع پندرہ فیصد سالانہ ہوگا، ۵۰ ہزار سے ۹۹ ہزار تک ساڑھے سترہ فیصد ہوگا، ایک لاکھ روپے اور اس سے زائد پر ۲۰ فیصد سالانہ نفع ہوگا۔
۴:۔ جمع شدہ رقم مقرّرہ وقت سے قبل کسی حالت میں واپس نہ کی جائے گی، رقم جس نام پر جمع ہوگی اس سے دُوسرے کے نام پر تبدیل نہ ہوگی، جن کی میعاد ختم ہوجائے وہ آئندہ حسبِ مرضی تجدید کریں گے۔
جواب:۔
مقرّرہ شرح منافع کے ساتھ اور مقرّرہ میعاد کے لئے لوگوں سے رقم لینا ناجائز و حرام ہے،(۱) قرآن و سنت کی رُو سے خالص سود۔ اور جائز یا ثواب سمجھ کر رقم جمع کرانا اس سے زیادہ گناہ ہے۔
لہٰذا ایسے تجارتی ادارہ میں رقم ہرگز جمع نہ کرائی جائے، ہم نے ایسے اداروں کے متعلق کئی مرتبہ لکھا تھا کہ مذکورہ طریقے سے رقم لینا اور دینا جائز نہیں ہے۔ اور یہ مسئلہ ایسا بھی نہیں کہ اس میں کسی کا اختلاف ہو، بلکہ متفقہ طور پر سودی کاروبار ہے، لیکن اگر جہالت اور ناواقفیت کی بنا پر اس میں ملوّث ہوئے ہیں یا ہو رہے ہیں تو بعض دیدہ و دانستہ شرعی حکم سے اغماض کر رہے ہیں۔
- (۱) ﵟ وَأَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلۡبَيۡعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰاْۚ ﵞ البقرة ٢٧٥۔ الربا ھو فضل خال عن عوض مشروط لأحد المتعاقدین فی المعاوضۃ۔ (درمختار ج:۵ ص:۱۷۰، باب الربا)۔ وفی الھدایۃ: الربا ھو الفضل المستحق لأحد المتعاقدین فی المعاوضۃ الخالی عن عوض شرط فیہ۔ (ھدایۃ ج:۳ ص:۸۰ باب الربا)۔

