بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سود

کمپنی‌میں‌نفع‌و‌نقصان‌کی‌بنیاد‌پر‌رقم‌جمع‌کرواکر‌منافع‌لینا

سوال:۔

اگر کسی کمپنی میں حصے کے طور پر رقم جمع کروائی جائے اور وہ کمپنی نفع نقصان کی بنیاد پر ہو اور ہر ماہ وہ رقم سے کاروبار کرکے ہمیں نفع دیں، کوئی مستقل مہینہ نہیں ہے کہ ۱۰۰ روپے پر ۴ روپے یا ۳ روپے، جتنا نفع ہوگا یا نقصان ہوگا وہ اتنا ہی ہمیں ہر مہینے پر رقم دیں گے۔ اور جتنی رقم جمع کروائی ہے وہ اتنی ہی رہے گی، جب چاہیں اپنی رقم نکلواسکتے ہیں۔ یا نفع یا سود کتنے فیصد جائز ہے؟ اور کتنے فیصد ناجائز؟ تفصیل سے جواب دیجئے، شکریہ۔

جواب:۔

اگر کمپنی کا کاروبار خلافِ شریعت نہیں اور وہ مضاربت کے اُصول پر نفع تقسیم کرتی ہے، لگا بندھا منافع طے نہیں کیا جاتا تو یہ منافع جائز ہے۔(۱)

  1. (۱) ومن شرطھا أن یکون الربح بینھما مشاعًا لَا یستحق أحدھما دراھم مسماۃ من الربح لأن شرط ذٰلک یقطع الشرکۃ بینھما ولَا بد منھا کما ھی فی عقد الشرکۃ۔ (الھدایۃ، کتاب المضاربۃ ج:۳ ص:۲۵۸)۔ أیضًا: وشرطھا أمور سبعۃ ۔۔۔ وکون الربح بینھما شائعًا فلو عین قدرًا فسدت ۔۔۔إلخ۔ (درمختار ج:۵ ص:۶۴۸، کتاب المضاربۃ)۔