بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سود

قرآن‌کی‌طباعت‌کے‌لئے‌سودی‌کاروبار

سوال:۔

ایک کمپنی کے اشتہارات اخبارات میں، کاروبار میں شرکت کے لئے آپ کی نظر سے بھی ضرور گزرتے ہوں گے، لوگوں کو بڑا میٹھا لالچ دیا جاتا ہے کہ ’’قرآن پاک کی اشاعت میں روپیہ لگائیے اور گھر بیٹھے منافع حاصل کیجئے‘‘ کیا یہ سود کی ذیل میں نہیں آتا؟ کیا یہ کمپنی اس طرح سادہ لوح مسلمانوں کو دھوکا دے کر ان کی رقم کو حرام بنادینے کا کام نہیں کر رہی؟ میں سمجھتا ہوں کہ اس طرح تو اس کمپنی کا سارے کا سارا کاروبار ہی حرام قرار پاتا ہے۔ براہِ کرم شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

جواب:۔

اس کمپنی کے فارم جو آپ نے ارسال کئے ہیں، ان کے مطابق یہ خالص سودی کاروبار ہے، کیونکہ اس نے علی الترتیب ۱۵ فیصد، ساڑھے سات فیصد اور ۲۰ فیصد بالقطع سود رکھا ہوا ہے، اس لئے اس کمپنی میں روپیہ لگانا جائز نہیں۔(۱)

  1. (۱) ومنھا أن یکون نصیب المضارب من الربح معلوما علٰی وجہ لَا تنقطع بہ الشرکۃ فی الربح کذا فی المحیط، فإن قال علٰی أن لک من الربح مائۃ درھم أو شرط مع النصف أو الثلث عشرۃ دراھم لَا تصح المضاربۃ کذا فی محیط السرخسی۔ (عالمگیری ج:۴ ص:۲۸۷، کتاب المضاربۃ، الباب الأوّل فی تفسیرھا ورکنھا وشرائطھا وحکمھا)۔