بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سود

فی‌صد‌کے‌حساب‌سے‌منافع‌وصول‌کرنا‌سود‌ہے

سوال:۔

کچھ لوگ سرمائے کا لین دین فی صد کے حساب سے کرتے ہیں، (یعنی ۱۵ فیصد ماہانہ، ۱۰ فی صد ماہانہ)۔ بعض لوگ اسے ’’سود‘‘ کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ یہ سود نہیں ہے۔ اسی سلسلے میں ہم نے ایک مسجد کے پیش اِمام صاحب سے تصدیق چاہی تو انہوں نے اسے سراسر جائز قرار دیا ہے۔ اب ہم لوگ اس عجیب اُلجھن میں مبتلا ہیں کہ کیا کیا جائے؟ لہٰذا آپ اس مسئلے کو قرآن و سنت کی روشنی میں حل کریں اور ہمیں واضح طور پر بتائیں کہ ایسے سرمائے سے جو ماہانہ منافع ملتا ہے وہ حرام ہے تو اسے حلال کرنے کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ جس سے ہمارا قلب صاف ہوجائے اور ہم عذابِ الٰہی سے بچ سکیں۔

جواب:۔

فی صد کے حساب سے روپے کا منافع وصول کرنا خالص سود ہے،(۱) جس اِمام صاحب نے اس کے جائز ہونے کا فتویٰ دیا وہ ناواقف ہے، اسے اپنے فتویٰ کی غلطی پر توبہ کرنی چاہئے۔ جو لوگ سود وصول کرچکے ہیں، انہیں چاہئے کہ اتنی رقم بغیر نیتِ صدقہ کے محتاجوں کو دے دیں۔(۲)

  1. (۱) الربا ۔۔۔ وشرعًا فضل ولو حکمًا فدخل ربا النسیئۃ والبیوع الفاسدۃ فکلھا من الربا خال عن العوض بمعیار شرعی، وھو الکیل والوزن مشروط أحد المتعاقدین فی المعاوضۃ۔ (الدر المختار مع رد المحتار ج:۵ ص:۱۶۸، باب الربا، وکذا فی تبیین الحقائق ج:۴ ص:۴۴۶ باب الربا)۔
  2. (۲) لأن سبیل الخبیث التصدق إذا تعذر الرد علٰی صاحبہ۔ (ردالمحتار ج:۶ ص:۳۸۵ کتاب الحظر والْإباحۃ، فصل فی البیع)۔ ویتصدق بلا نیۃ الثواب وینوی بہ برائۃ الذمۃ۔ (قواعد الفقہ ص:۱۱۵)۔