بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سود

ساٹھ‌ہزار‌روپے‌دے‌کر‌تین‌مہینے‌بعد‌اَسّی‌ہزار‌روپے‌لینا

سوال:۔

ایک شخص نے بازار میں کمیٹی ڈالی تھی، جب اس کی کمیٹی نکلی (جو ساٹھ ہزار روپے کی تھی) تو وہ اس نے ایک دُوسرے دُکان دار کو دے دی کہ مجھے تین مہینے بعد اَسّی ہزار روپے دوگے، تو کیا یہ بھی سود ہے یا نہیں؟

جواب:۔

یہ بھی خالص سود ہے۔(۱)

  1. (۱) الربا ھو الفضل المستحق لأحد المتعاقدین فی المعاوضۃ الخالی عن عوض شرط فیہ۔ (الھدایۃ ج:۳ ص:۸۰ باب الربا)۔ أما فی إصطلاح الفقھاء فھو زیادۃ أحد البدلین المتجانسین من غیر أن یقابل ھٰذہ الزیادۃ عوض۔ (کتاب الفقہ علی المذاھب الأربعۃ ج:۲ ص:۲۲۷، مباحث الربا، طبع بیروت)۔