سود
خاصڈپازٹکیرُقومکومسلمانوںکےتصرفمیںکیسےلایاجائے؟
سوال:۔
سود اور سودی کاروبار حرام ہے، پاکستانی لوگ اربوں روپے خاص ڈپازٹ میں جمع کراتے ہیں، یہ مسلمانوں کی دولت ہے، ان لوگوں میں بہت سارے بوڑھے لوگ ہوتے ہیں، ان کے کندھوں پر ساری جوان اولاد بیٹے، بیٹیوں کا بار ہوتا ہے۔ بالخصوص پنشن پر جانے والے لوگ۔ ان کو بیٹیوں کو جہیز بھی دینا ہوتا ہے اور روزمرّہ کا خرچ بھی کرنا ہوتا ہے، اگر یہی اربوں روپے تجارت، کرائے کے مکانوں، بسوں اور دُوسرے جائز کاروبار میں لگائے جائیں جس سے اربوں روپے منافع بھی ہوگا، اس سے اگر اصل زَر کو بھی سلامت رکھا جائے اور نفع مسلمانوں کو دیا جائے تو ایسے طریقے سے کاروبار کا نفع اصل زَر کے مالکوں کو ملے گا۔ اس سے ملک کی ترقی بھی ہوگی اور ہر گھرانا خوشحال ہوگا۔ سودی کاروبار اس حالت میں ناجائز ہے، اگر رقم کسی غریب کو بغرضِ ضرورت دی جائے اور اس سے اصل رقم لی جائے، بینک یا خاص ڈپازٹ والے ادارے غریب نہیں ہیں۔
دُوسری بات یہ کہ گھر میں اصل زَر رکھنے سے ڈاکو سب کچھ لوٹ کر لے جائیں گے، موٹروں اور دیگر جائیدادوں کو زبردستی چھین کے لے جاتے ہیں، ان حالات میں اصل زَر بھی محفوظ نہیں رہتا، تنگ دستی سے ہر ایک مجبور ہوجاتا ہے، اسلامی قوانین کے مطابق کسی ڈاکو یا چور کو سزا نہیں ملتی۔ ان حالات میں اصل زَر سے بھی ہاتھ دھونے پڑجاتے ہیں، اربوں روپے کا جائز تصرف اور حلال کی کمائی کا ذریعہ بنادیا جائے تو اس میں کیا قباحت ہے؟ شریعت میں ایسے اربوں روپے جن کی حفاظت بھی ہو اور کارآمد منافع بھی ہو تو اس پہلو پر شریعت کے مطابق حکومت کو یا ہمیں مشورہ سے نوازیں۔
جواب:۔
یہ سوال اپنی جگہ نہایت اہمیت کا حامل ہے، اس کے لئے حکومت کے اربابِ حل و عقد کو غور کرنا چاہئے، اور ایسے لوگوں کے لئے ایسے کاروباری ادارے قائم کرنے چاہئیں جو شرعی مضاربت کے اُصولوں پر کام کریں اور منافع حصہ داروں میں تقسیم کریں۔

