بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سود

بیوہ،‌بچوں‌کی‌پروَرِش‌کے‌لئے‌بینک‌سے‌سود‌کیسے‌لے؟

سوال:۔

میں چار بچیوں کی ماں ہوں اور ابھی پانچ ماہ قبل میرے شوہر کا انتقال ہوگیا ہے، اور میری عمر ابھی ۲۶ سال ہے، میرے شوہر کے مرنے کے بعد ان کے آفس کی طرف سے تقریباً ایک لاکھ سے زیادہ کی رقم فنڈز وغیرہ کی شکل میں مجھے ملی ہے۔ اب میرے گھر والوں اور تمام لوگوں کا یہی مشورہ ہے کہ میں یہ رقم بینک میں ڈال دُوں اور ہر مہینے اس پر ملنے والی رقم لے لیا کروں اور اس سے اپنا اور بچوں کا خرچ پورا کروں۔ بات کسی حد تک معقول ہے، مگر میرے نزدیک اوّل تو یہ رقم ہی حرام ہے، پھر اس پر مزید حرام وصول کیا جائے اور اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالا جائے، کیونکہ حرام، حرام ہے۔ جبکہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ حرام نہیں ہے، مجبوری میں سب جائز ہے۔ جبکہ میرے علم میں ایسی کوئی بات نہیں، میں اس سلسلے میں بہت پریشان ہوں کہ کیا کروں؟

جواب:۔

اللہ تعالیٰ آپ کی اور آپ کی بچیوں کی کفالت فرمائے۔ آپ کے شوہر کو ان کے آفس سے جو واجبات ملے ہیں اگر ان کی ملازمت جائز تھی، تو یہ واجبات بھی حلال ہیں، البتہ ان کو بینک میں رکھ کر ان کا منافع لینا حلال نہیں بلکہ سود ہے۔ اگر آپ کو کوئی نیک رشتہ مل جائے جو آپ کی بچیوں کی بھی کفالت کرے، تو آپ کے لئے عقد کرلینا مناسب ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ پروَرِش کرنے والے ہیں، اپنی محنت مزدوری کرکے بچیوں کی پروَرِش کریں اور ان کے نیک نصیبے کے لئے دُعا کرتی رہیں، اللہ تعالیٰ آپ کے لئے اور آپ کی بچیوں کے لئے آسانی فرمائیں، آمین!