بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سود

سود‌کو‌بینک‌میں‌رہنے‌دیں،‌یا‌نکال‌کر‌غریبوں‌کو‌دے‌دیں؟

سوال:۔

ہم تاجر والدین کے بیٹے ہیں، ہمارے والدین زیادہ تر پیسے بینک میں جمع کرتے ہیں اور انہیں جمع کردہ رقم میں سے سال کے بعد ’’سود‘‘ بھی ملتا تھا، ہم نے والدین سے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ سود لینا حرام ہے، پھر کیوں لیتے ہیں؟ تو وہ کہتے ہیں کہ ہم ’’سود‘‘ کی رقم کو غریبوں میں بغیر ثواب کی نیت کے تقسیم کردیتے ہیں۔ اور یہ رقم وہ حضرات اس لئے بینک سے اُٹھاتے ہیں کہ اگر وہ رقم نہ اُٹھائی جائے تو اس سے بینک والوں کا فائدہ ہوگا اور یوں کم از کم غریبوں کا فائدہ تو ہوگا۔ آپ سے سوال یہ ہے کہ آیا اس طرح کرنا صحیح ہے یا افضل پر عمل کرتے ہوئے بالکل سود کی رقم کو ہاتھ ہی نہیں لگانا چاہئے اور پیسے کو بینک ہی میں رہنے دیا جائے؟

جواب:۔

بینک سے سود کی رقم لے کر کسی ضرورت مند کو دے دی جائے مگر صدقہ، خیرات کی نیت نہ کی جائے، بلکہ ایک نجس چیز کو اپنی ملک سے نکالنے کی نیت کی جائے۔(۱)

  1. (۱) والحاصل انہ إن علم أرباب الأموال وجب ردہ علیھم، وإلّا فإن علم عین الحرام لَا یحل لہ ویتصدق بہ بنیۃ صاحبہ (شامی ج:۵ ص:۹۹، طبع سعید)۔ أیضًا: ویتصدق بلا نیۃ الثواب وینوی بہ برائۃ الذمۃ۔ (قواعد الفقہ ص:۱۱۵)۔