بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سود

سود‌کی‌رقم‌کے‌کاروبار‌کے‌لئے‌برکت‌کی‌دُعا

سوال:۔

سود پر رقم لے کر کاروبار میں لگانا اور پھر اس میں اللہ تعالیٰ سے برکت کی دُعا کرنا، کیا اس میں برکت ہوگی یا بربادی؟

جواب:۔

سود پر رقم لینا گناہ ہے، اس سے توبہ و اِستغفار کرنا چاہئے، نہ کہ اس میں برکت کی دُعا کی جائے۔ تجربہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے کاروبار کے لئے بینک سے سودی قرض لیا وہ اس قرض کے جال میں ایسے پھنسے کہ رہائی کی کوئی صورت نہیں رہی۔ اس لئے سود پر لی گئی رقم میں برکت نہیں ہوتی بلکہ اس کا انجام ’’ندامت‘‘ ہے۔(۱)

  1. (۱) عن ابن مسعود قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ان الربا وإن کثر فإن عاقبتہ تصیر إلٰی قُلٍّ۔ (مشکوٰۃ ص:۲۴۶ باب الربا، طبع قدیمی کتب خانہ کراچی)۔