سود
نفعونقصانکےموجودہشراکتیکھاتےبھیسودیہیں
سوال:۔
چند سال قبل جب بلاسود بینکاری شروع کرنے اور نفع و نقصان میں شراکت کے کھاتے کھولنے کا حکومت کی طرف سے اعلان ہوا تو میں اپنے بینک منیجر کے پاس گیا اور ان سے دریافت کیا کہ جب بینکوں کا سارا کاروبار سود پر چلتا ہے تو یہ نفع و نقصان میں شراکت کے کھاتے سودی کاروبار سے کس طرح پاک ہوسکتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ حکومت بینکوں کے ذریعہ گندم، چاول، کپاس وغیرہ خریدتی ہے جس پر وہ بینکوں کو کمیشن دیتی ہے، ہم یہ خریداری اس رقم سے کریں گے جو نفع و نقصان میں شراکت کے کھاتوں میں جمع ہوگی اور حکومت سے وصول ہونے والے کمیشن میں سے ہم اپنے کھاتے داروں میں منافع تقسیم کریں گے۔ البتہ ان کھاتوں سے ہر سال یکم رمضان کو زکوٰۃ کی رقم وضع کی جائے گی۔ مندرجہ بالا یقین دہانی پر میں نے اپنی رقم جاری کھاتے سے نفع و نقصان شراکت کے کھاتے میں منتقل کرادی۔ اس وقت سے اب تک آٹھ اور ساڑھے آٹھ فیصدی کے درمیان ہر سال منافع کا اعلان ہوتا رہا ہے، البتہ میری کل جمع رقم میں سے ڈھائی فیصد زکوٰۃ ہر سال وضع ہوجاتی ہے۔ میرے جیسے بہت سے بوڑھے افراد اور بیوہ عورتوں نے اپنی رقمیں نفع و نقصان میں شراکت کے کھاتے میں رکھی ہیں، جن سے زکوٰۃ کی رقم وضع ہونے کے بعد کچھ سالانہ آمدنی ہوجاتی ہے جس سے ان کا خرچ چلتا ہے۔ اگر یہ ذریعہ بند ہوجائے تو ان کے لئے تنگی و ترشی کا باعث ہوگا، یا یہ کہ وہ اپنے رأس المال میں سے خرچ کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ تھوڑے عرصے میں ختم ہوجائے اور پھر ان کو سخت تنگی کا سامنا ہوگا۔ بہت سے علمائے کرام کی رائے ہے کہ نفع و نقصان میں شراکت کے کھاتے کی اسکیم سودی کاروبار ہے اور حرام ہے۔ ہم مسلمان ملک میں رہتے ہیں اور ہم سب کا یہ فریضہ ہے کہ ہم اسلامی اَحکامات پر خود عمل کریں اور حکومت اس سلسلے میں کوئی اسلامی حکم نافذ کرے تو اس کے ساتھ تعاون کریں۔ اب اگر اس ملک کے مسلمان باشندے اپنے ’’اُولی الامر‘‘ کے دعویٰ کو مان کر اپنی رقمیں نفع و نقصان شراکت کے کھاتے میں جمع کراتے اور حصولِ منافع اور وضعِ زکوٰۃ میں شریک ہوتے ہیں تو گناہ اور وبال حکومت پر ہوگا یا کھاتہ داروں پر؟ عوام، حکومت کی پالیسیوں پر اختیار نہیں رکھتے اور ایک حد تک بینک میں اپنی رقم رکھنے پر مجبور ہیں۔ ایسی صورت میں عام شہری کیا کریں؟ وضاحت فرمائیں۔
جواب:۔
’’غیرسودی کھاتوں‘‘ کے سلسلے میں حکومت کا یا بینک والوں کا یہ اعلان ہی کافی نہیں، بلکہ ان کے طریقۂ کار کو معلوم کرکے یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ آیا شرعی اُصولوں کی روشنی میں وہ واقعی ’’غیرسودی‘‘ ہیں بھی یا نہیں؟ اگر سچ مچ ’’غیرسودی‘‘ ہوں تو زہے قسمت، ورنہ ’’سود‘‘ کے وبال سے کھاتہ دار بھی محفوظ نہیں رہے گا۔(۱) میں نے قابلِ اعتماد ماہرین سے سنا ہے کہ ’’غیرسودی‘‘ محض نام ہی نام ہے، ورنہ ’’غیرسودی بینکاری‘‘ کا جو خاکہ وضع کیا گیا تھا، اس پر اب تک عمل درآمد نہیں ہوا۔ آپ کا یہ ارشاد بجا ہے کہ: ’’حکومت کوئی اسلامی حکم نافذ کرے تو اس کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے‘‘ مگر حکومت کوئی اسلامی حکم جاری بھی تو کرے؟ اب تک ہماری حکومت کا حال یہ ہے کہ حکومت کسی اسلامی حکم کو نافذ بھی کرتی ہے تو اس پر اپنی خواہشات کی پیوندکاری اور ملاوٹ کرکے اس کی رُوح ہی کو مسخ کردیتی ہے۔
چنانچہ صریح وعدوں کے باوجود ابھی تک سودی نظام کو ختم نہیں کیا گیا اور جن کھاتوں کو غیرسودی ظاہر کیا گیا ہے ان میں بھی سودی نظام کی رُوح کارفرما ہے، وﵟ لَعَلَّ ٱللَّهَ يُحۡدِثُ بَعۡدَ ذَٰلِكَ أَمۡرٗا ﵞ!
- (۱) لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آکل الربا وموکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال: ھم سواء۔ (مسلم، مشکوٰۃ ص:۲۴۴)۔

