سود
بینککےمونوگرامپر’’بسماللہالرحمنالرحیم‘‘لکھناجائزنہیں
سوال:۔
یہ ایک بڑا مسئلہ ہے کہ ایک بینک کے مونوگرام پر ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ لکھی ہوئی ہے، یہ مونوگرام اس بینک کی ہر سلپ پر، ہر انٹرنیٹ پر حتیٰ کہ ہر لفافے پر موجود ہے، روزانہ ہزاروں لفافے اِستعمال کے بعد ردّی کی ٹوکری کی نذر ہوجاتے ہیں اور اس طرح بہت زیادہ بے ادبی ہوتی رہتی ہے، اس کا جوابدہ کون ہے؟ اس بینک کے اعلیٰ افسران یا ہر وہ شخص جو ان لفافوں کو ردّی میں پھینک دیتا ہے (بہت سے لوگ جانتے ہیں، بعض نہیں جانتے کہ مونوگرام پر کیا موجود ہے؟) اس سلسلے میں اس بینک کے اعلیٰ افسران سے بھی درخواست ہے کہ اس کا سدِ باب کریں؟
جواب:۔
اس بینک والوں کویہ مونوگرام اِستعمال کرنا جائز نہیں، اوّل تو ان کا کام ہی حرام ہے، کیونکہ اس کی ساری بنیاد سود پر ہے، پھر اس کے لئے بسم اللہ شریف کے مونوگرام کو اِستعمال کرنا بہت ہی نازیبا حرکت ہے، اور پھر ان خطوں اور لفافوں میں بسم اللہ شریف کی جو بے ادبی ہوتی ہے وہ سراپا گناہ ہے۔(۱)
- (۱) کتابۃ القرآن علٰی ما یفترش ویبسط مکروھۃ۔ (فتاویٰ عالمگیری ج:۵ ص:۳۲۳، طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔

