بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سود

سودی‌کام‌کا‌تلاوت‌سے‌آغاز‌کرنا‌بدترین‌گناہ‌ہے

سوال:۔

میں یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ کراچی کی ایک مقامی برانچ میں ملازم ہوں۔ میری برانچ میں ہر روز صبح کام کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک اور پورے اسٹاف کی اجتماعی دُعا سے ہوتا ہے، اور ان کا نظریہ ہے کہ اس سے برکت ہوتی ہے، کام میں دِل لگتا ہے اور کوئی ناخوشگوار واقعہ رُونما نہیں ہوتا۔ میں اس قرآنِ پاک کی تلاوت اور دُعا میں شامل نہیں ہوتا، لیکن جب تلاوت ہو رہی ہوتی ہے تو خاموشی سے سنتا ہوں، کیونکہ قرآن پڑھنا سنت اور سننا واجب ہے۔ میرا مسئلہ یہ ہے کہ قرآن و حدیث کی رُو سے سود، سودی کاروبار، اس کی ملازمت بھی منع ہے۔ قرآن میں ہے کہ سود حرام ہے اور سود نہ لو۔ تلاوت سے اس کا افتتاح کرنا کیسا عمل ہے؟ قرآن و سنت کی روشنی میں بتلائیں کہ کیا یہ جائز ہے؟ اگر نہیں تو اس کے گنہگار کون ہیں؟

جواب:۔

گناہ کے کام کو تلاوت سے شروع کرنا کس طرح جائز ہوسکتا ہے؟ یہ پوچھئے کہ ’’اس سے شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں کفر کا اندیشہ تو نہیں؟‘‘(۱)

  1. (۱) الکلام منہ ما یوجب أجرًا کالتسبیح والتحمید وقرائۃ القرآن والأحادیث النبویۃ وعلم الفقہ وقد یأثم بہٖ إذا فعلہ فی مجلس الفسق وھو یعلمہ لما فیہ من الْإستھزاء والمخالفۃ لموجبہ۔ (عالمگیریۃ ج:۵ ص:۳۱۵)۔ أیضًا: قرأ القرآن علٰی ضرب الدف والقضیب یکفر لِاستخفافہ وأدب القرآن أن لَا یقرأ فی مثل ھٰذہ المجالس، شرب الخمر وقال: بسم اللہ، أو قال ذٰلک عند الزنا أو عند أکل الحرام المقطوع بحرمتہٖ کفر لأنہ استخف باسم اللہ تعالٰی۔ (فتاویٰ بزازیۃ علٰی ھامش الفتاوی الھندیۃ، فصل فیما یقال فی القرآن والأذکار ج:۶ ص:۳۳۸)۔ أیضًا: وتحرم عند إستعمال محرم بل فی البزازیۃ وغیرھا یکفر من بسمل عند مباشرۃ کل حرام قطعی الحرمۃ۔ (ردالمحتار ج:۱ ص:۹، طبع ایچ ایم سعید)۔