معاملات
کسیکیملکیتیزمینمیںمعدنیاتنکلآئیںتوکونمالکہوگا؟
سوال:۔
ایک شخص کی زمین میں سے (جو کہ اس کی کسی فرد سے یا حکومت سے خریدشدہ ہے، ملکیت کے مکمل کاغذات اس کے پاس موجود ہیں، اور اس زمین پر اس کا گھر ہے، یا وہ زرعی زمین ہے یا غیرآباد پڑی ہے) معدنیات کے ذخائر، گیس، کوئلہ، پٹرول، سونا اور چاندی وغیرہ برآمد ہوتے ہیں تو وہ معدنیات اس شخص کی ذاتی ملکیت قرار پائیں گے یا حکومت کی؟
جواب:۔
اگر کسی شخص کی مملوکہ زمین میں معدنیات کے ذخائر نکل آئیں تو اگر سونا چاندی کے ذخائر ہوں تو اس پر ’’خمس‘‘ ہے، گیس اور پٹرول وغیرہ کے ذخائر پر کوئی چیز نہیں۔ البتہ اگر پارہ یا اس قسم کے ذخائر ہوں تو اس پر ’’خمس‘‘ ہے۔ ان اُمور کی تفصیل فقہ کی کتابوں میں موجود ہے۔ لیکن اس زمانے میں اگر اس قسم کے ذخائر برآمد ہوجائیں تو حکومت اس زمین کو اپنے قبضے میں لے لیتی ہے، اور اصل مالک کے پاس نہیں چھوڑی جاتی، یہ معلوم نہیں کہ اس کو معاوضہ دیا جاتا ہے یا نہیں؟ اور اگر دِیا جاتا ہے تو کتنا دِیا جاتا ہے؟ بہرحال شرعی نقطۂ نگاہ سے ان تمام معدنیات پر حکومت کا قبضہ کرلینا صحیح نہیں،(۱) واللہ اعلم!
- (۱) معدن ذھب أو فضۃ أو حدید أو رصاص أو صفر وجد فی أرض خراج أو عشر ففیہ الخمس عندنا۔ (الھدایۃ ج:۱ ص:۱۹۹ طبع شرکت علمیہ)۔ أیضًا: وفی حاشیۃ الھدایۃ: قولہ معدن ذھب إلخ اعلم ان المستخرج من المعدن ثلاثۃ أنواع، جامد ینطبع کالذھب والفضۃ والحدید وما ذکرہ المصنف وجامد لَا ینطبع کالجص والنورۃ والکحل وسائر الأحجار کالیاقوت والزمرد والملح وما لیس بجامد کالماء والقیر والنفط ولَا یجب الخمس إلّا فی النوع الأوّل عندنا، وقولہ وجد سواء کان الواجد مسلمًا أو ذمیًا أو کتابیًا أو صبیًّا أو امرأۃ أو عبدًا مکاتبًا۔ (ھدایۃ ج:۱ ص:۱۹۹، باب فی المعادن والرکاز، طبع شرکت علمیہ)۔

