معاملات
بیویکوبیٹیلکھواکرشادیکےلئےپیسےلینا،نیزاُنکااِستعمال
سوال:۔
سندھ ویلفیئر بورڈ کی جانب سے فیکٹریوں میں کام کرنے والوں یعنی مزدوروں کو بیٹی کی شادی اور جہیز کے لئے پندرہ ہزار روپیہ کی رقم دی جاتی ہے، کچھ حضرات نے مجوّزہ فارم میں اپنی بیٹی کی جگہ بیوی کا نام لکھ دیا اور خود ان کے باپ بن گئے، کیونکہ بیٹی تو ہے نہیں، لیکن پندرہ ہزار کے لالچ میں اپنی بیوی کو جان بوجھ کر اپنی بیٹی ظاہر کیا۔ اس عمل سے نکاح متأثر ہوا یا نہیں؟ اور شرعی حکم کیا ہے؟ قرآن وسنت کی روشنی میں مستفید فرمائیں۔
جواب:۔
اس جھوٹ سے نکاح تو متأثر نہیں ہوا، مگر اس طرح رقم اینٹھنا حرام ہے، اور اس رقم کا اِستعمال بھی حرام ہے۔(۱)
- (۱) قَالَ تَعَالَى ﵟ وَلَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ ﵞ (قولہ بالباطل) بالحرام یعنی بالربا والقمار والغصب والسرقۃ والخیانۃ ونحوھا۔ (تفسیر بغوی ج:۲ ص:۵۰)۔ أیضًا: عن أبی حرۃ الرقاشی عن عمہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ألَا لَا تظلموا! ألَا لَا یحل مال إمریء إلّا بطیب نفس منہ۔ (مشکٰوۃ ص:۲۵۵ باب الغصب والعاریۃ)۔

