بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

معاملات

کیا‌مجبوراً‌چوری‌کرنا‌جائز‌ہے؟

سوال:۔

چند روز ہوئے ہمارے ورکشاپ میں چوری پر بحث ہو رہی تھی، ایک صاحب فرمانے لگے کہ اگر آدمی غریب ہو اور اپنے بچوں کا پیٹ نہ پال سکے تو اس کو چوری کرنا جائز ہے، اس نے تو قرآن اور حدیث کا نام لے کر یہ بات کہی ہے کہ ان میں موجود ہے۔ اب آپ سے گزارش ہے کہ آپ برائے مہربانی قرآن و حدیث کی رُو سے اس کی وضاحت کریں کہ آیا ایسا کوئی مسئلہ ہے کہ ایسے آدمی کی چوری کو جائز قرار دیا گیا ہو؟

جواب:۔

اگر کسی شخص کو ایسا فاقہ ہو کہ مردار اس کے لئے جائز ہوجائے تو اس کو اجازت ہے کہ کسی کا مال لے کر اپنی جان بچالے اور نیت یہ کرے کہ جب گنجائش ہوگی اس کو واپس کردوں گا۔ محض بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے چوری کو پیشہ بنالینا، اس کی اجازت نہیں۔(۱)

  1. (۱) (الأکل) للغذاء والشرب للعطش ولو من حرام أو میتۃ أو مال غیرہ وإن ضمنہ (فرض) ثیاب علیہ بحکم الحدیث، ولٰـکن (مقدار ما یدفع) الْإنسان (الھلاک عن نفسہ)۔ قولہ ولو من حرام فلو خاف الھلاک عطشا وعندہ خمر لہ شربہ قدر ما یدفع العطش إن علم أنہ یدفعہ ۔۔۔إلخ۔ قولہ وإن ضمنہ لأن الْإباحۃ للإضطرار لَا تنافی الضمان۔ (ردالمحتار علی الدر المختار ج:۶ ص:۳۳۸، کتاب الحظر والْإباحۃ، طبع ایچ ایم سعید، أحسن الفتاویٰ ج:۸ ص:۲۰۲)۔