معاملات
ماںکیرضامندیسےرقملیناجائزہے
سوال:۔
میں بیمار ہوں، کام نہیں کرتا، میرے دو بھائی ملازمت کرتے ہیں اور اسی سے ہم سب گھر والوں کا گزارا ہوتا ہے، میرا چھوٹا بھائی جاوید جو ملازمت کرتا ہے وہ ہر ماہ گھر کے دُوسرے بھائی بہنوں سے چھپ کر مجھے ایک سو روپے دیتا ہے، اور اس نے مجھے تاکید کی ہے کہ ان روپوں کا ذکر گھر والوں سے نہ کروں، کیونکہ یہ روپے والدہ کے لئے ہیں اور ان روپوں سے مقوی غذا مثلاً: بادام، مغز، اخروٹ وغیرہ لے کر پابندی سے والدہ کو کھلاتے رہنا۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ میں خود کافی عرصے سے بیمار ہوں اور کمزور بھی ہوں، اس وجہ سے میری ماں اصرار کرکے ہر ماہ سو روپے میں سے کچھ رقم مجھے دے دیتی ہے، یا کبھی اس سو روپے کی رقم سے بنی ہوئی کسی چیز میں مجھے شریک کرلیتی ہے، جب میرے بھائی کو میں نے یہ بات بتلائی تو اس نے مجھ پر ناگواری کا اظہار کیا کہ میں کیوں اس رقم میں سے لیتا ہوں، لیکن بہرکیف وہ اب بھی بدستور ماں کے لئے رقم دیتا ہے اور ماں بھی بدستور مجھے کبھی رقم میں سے کچھ دیتی ہے اور کبھی اس رقم سے تیار شدہ کھانے میں شریک کرلیتی ہے، کیا میرے لئے اس رقم کا لینا یا اس کھانے وغیرہ میں شریک ہونا جائز ہے یا ناجائز؟ حلال ہے یا حرام؟
جواب:۔
جب وہ رقم آپ اپنی والدہ کے حوالے کردیتے ہیں، اس کے بعد اگر والدہ اپنی مرضی سے آپ کو کچھ رقم دے دیتی ہے یا اس رقم سے تیار کئے ہوئے کھانے میں آپ کو شریک کرلیتی ہے تو آپ کے لئے وہ رقم یا وہ کھانا شیرِ مادر کی طرح حلال ہے۔(۱)
- (۱) کلٌ یتصرف فی ملکہ کیف شاء۔ (شرح المجلۃ لسلیم رستم باز ج:۱ ص:۶۵۴ رقم المادّۃ:۱۱۹۲ کتاب الشرکۃ)۔ أیضًا: لأن الملک ما من شانہ أن یتصرف فیہ، بوصف الْإختصاص۔ (رد المحتار ج:۴ ص:۵۰۲، مطلب فی تعریف المال)۔

