بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

معاملات

حصے‌سے‌دستبردار‌ہونے‌والے‌بھائی‌کو‌راضی‌کرنا‌ضروری‌ہے

سوال:۔

میرے سارے بہن بھائی میرے والد کا مکان میرے نام کرنے کو تیار تھے، جب کاغذات مکمل کرالئے تو ایک بھائی نے دست بردار ہونے سے انکار کردیا، جس پر انہیں ان کا حصہ دینے کو کہا گیاتو نہ وہ حصہ لینے پر تیار ہوئے، نہ دستبردار ہونے پر، کورٹ نے اجتماعی دستبرداری کی وجہ سے ٹرانسفر کردیا ہے۔ کیا یہ شرعی حیثیت سے دُرست ہے؟ واضح رہے کہ میں اپنی والدہ کے ساتھ اس مکان میں رہتا ہوں اور باقی سب اپنے علیحدہ علیحدہ گھروں میں رہتے ہیں۔

جواب:۔

جو بھائی راضی نہیں، انہیں قیمت دے کر راضی کرنا ضروری ہے۔(۱)

  1. (۱) وعن أبی حرۃ الرقاشی عن عمہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ألَا لَا تظلموا! ألَا لَا یحل مال امریء إلّا بطیب نفس منہ۔ (مشکٰوۃ ج:۱ ص:۲۵۵)۔ قَالَ تَعَالَى ﵟ يٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ إِلَّآ أَن تَكُونَ تِجَٰرَةً عَن تَرَاضٖ مِّنكُمۡۚ ﵞ النساء ٢٩۔ إذ لَا یجوز لأحد من المسلمین أخذ مال أحد بغیر سبب شرعی۔ (ردالمحتار علی الدر المختار ج:۴ ص:۶۱ باب التعزیر، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔