بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

معاملات

جعلی‌ملازم‌کے‌نام‌پر‌تنخواہ‌وصول‌کرنا

سوال:۔

میں سرکاری آفیسر ہوں، ہمیں ایک ذاتی ملازم رکھنے کی اجازت ہے، اس ملازم کی تعیناتی ایک طویل دفتری کارروائی کے نتیجے میں ہوتی ہے، بعد میں رجسٹر پر باقاعدہ حاضری لگتی ہے اور اس ملازم کی تنخواہ ہم لوگ خود ہی انگوٹھا لگاکر لیتے رہتے ہیں۔ لیکن مخصوص حالات کی بنا پر ملازم ہر دو چار ماہ بعد بدلنے پڑتے ہیں۔ ملازم (گھر میں کام والی ماسی) آتے جاتے رہتے ہیں۔ مگر جس ملازم کی تعیناتی کاغذوں میں ہے اس کے نام سے تنخواہ ملتی ہے، میں نے کچھ عرصہ قبل آپ سے دریافت کیا تھا تو آپ نے فرمایا تھا کہ ملازم کی تنخواہ ہمارے لئے جائز نہیں، خواہ گھر کا سارا کام کاج بیگم کرے، تب سے میں نے کئی جزوقتی ملازم رکھنے شروع کئے اور ان سب کی تنخواہ اسی ’’ملازم‘‘ کی تنخواہ سے ادا کرتا ہوں، کیا میرا یہ فعل صحیح ہے؟

تنقیح :۔ مندرجہ ذیل اُمور کی وضاحت کی جائے:

۱:۔ کیا ایسا ممکن نہیں کہ آپ قانون کے مطابق ایک مستقل ملازم رکھ لیں؟

۲:۔ کیا جزوقتی ملازمین رکھنے سے اس قانون کا منشا پورا ہوجاتا ہے؟

۳:۔ اگر گھر کے لوگ ملازم کا کام خود نمٹایا کریں تو کیا قانون آپ کو ملازم کی تنخواہ وصول کرنے کی اجازت دیتا ہے؟

اس تنقیح کا درج ذیل جواب آیا:

آپ نے گزشتہ سوال پر تنقیحی سوالات اُٹھائے ہیں، ان کا جواب حاضر ہے:

۱:۔ جی ہاں! قانون کے مطابق تو ایک ملازم رکھ لیتے ہیں، مگر وہ ملازم پردے کی مجبوری کے پیشِ نظر گھر میں کام نہیں کرسکتا، اور اگر کسی مائی کو قانون کے مطابق ملازم رکھ لیں تو یہ مائی (ماسی لوگ) تو ہر دو تین ماہ بعد گھر تبدیل کرلیتے ہیں، یا مالکہ ان کو مجبوراً بدل دیتی ہے، اس صورت میں اس کی تعیناتی اور برخاستگی ایک مشکل مرحلہ ہوگی، کیونکہ اس عمل میں کئی ماہ لگتے ہیں۔ باقی جہاں تک بات قانون کی ہے وہ تو ایک ہی ملازم رکھا جاتا ہے، جبکہ عملی طور پر ایسا شاید ہی کوئی کرتا ہے، یعنی ۲/۱ فیصد اور سب لوگوں کو پتہ ہے کہ لوگ اسے اپنے خرچے میں لاتے ہیں۔

۲۔۔۔ ۳۔۔۔ کوئی ملازم نہ رکھیں گے تو تنخواہ ملازمہ کی نہ ملے گی، اس لئے لوگ کاغذی ملازم رکھ لیتے ہیں اور سہولت کے لئے ۱۰۰، ۲۰۰ روپے کی جزوقتی ملازمہ رکھ لیتے ہیں، جبکہ ملازم کی تنخواہ ایک ہزار سے کچھ اُوپر ملتی ہے۔

سوال:۔

ایک یا دو یا تین جزوقتی ملازم رکھنے کے باوجود کچھ رقم بچ جاتی ہے، جسے میں کسی طرح سے حکومت کو واپس کرنے کی کوشش کرتا ہوں، مثلاً میرے ادارے میں کسی چیز کی ضرورت ہے اس کو محکمہ جاتی کاروائی کے ذریعے خریدا جائے تو شاید دو ہزار روپے لگیں، جبکہ میں نے وہی چیز ایک ہزار روپے میں لے کر خاموشی سے رکھ دی، کیا اس طرح اس رقم لوٹانے سے میں مطالبے سے بری الذمہ ہوجاؤں گا؟

سوال:۔

بعض لوگ میرے دفتر میں بہت ہی غریب ہیں، گزشتہ دنوں ایک ایسے ہی شخص کی بچی کی شادی کے لئے میں نے اس رقم سے کچھ پیسے دئیے، خیال یہ تھا کہ غریب کی مدد بیت المال سے ہونی چاہئے، اور میرے پاس بھی سرکاری رقم ہے، کیا میرا یہ فعل صحیح ہے؟

جواب:۔

آپ کی تحریر کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ کا قانون ہی کچھ ایسا ہے جو ’’اعلیٰ افسران‘‘ کو جھوٹ اور جعل سازی کی تعلیم دیتا ہے، جب تک آپ جعلی دستخط نہ کریں تب تک اس جائز رعایت سے فائدہ نہیں اُٹھاسکتے جو قانون آپ کو دینا چاہتا ہے، اب تین صورتیں ہوسکتی ہیں:

اوّل:۔ یہ کہ آپ بھی دُوسرے ’’افسران‘‘ کی طرح ہر مہینے جھوٹے دستخط کرنے کی مشق کیا کریں، ظاہر ہے کہ میں آپ کو اس کا مشورہ نہیں دے سکتا۔

دوم:۔ یہ کہ آپ ہمیشہ کے لئے اس رعایت سے محرومی کو گوارا کریں، یہ آپ کے ساتھ قانون کی زیادتی ہے کہ اگر آپ سچ بولیں تو رعایت سے محروم، اور اگر رعایت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو جھوٹ بولنا لازم۔

سوم:۔ تیسری صورت یہ ہے کہ آپ اور آپ کے رُفقاء اس قانون کے وضع کرنے والوں کو توجہ دِلائیں اور اس قانون میں مناسب لچک پیدا کرائیں تاکہ ملازم کی تنخواہ حاصل کرنے کے لئے آپ کو اور آپ کی طرح کے دیگر ’’اعلیٰ افسران‘‘ کو ہر مہینے جعلی دستخط نہ کرنے پڑیں۔

جواب:۔

جی ہاں! جب رقم محکمے میں واپس پہنچ گئی تو آپ کا ذمہ بری ہوگیا۔(۱)

جواب:۔

مجھے اس میں تردّد ہے، کیونکہ آپ اس کے مجاز نہیں ہیں۔ بیت المال میں واقعی غریبوں کا حق ہے مگر بیت المال کے شعبے الگ الگ ہیں۔

  1. (۱) ویبرأ بردھا ولو بغیر علم المالک فی البزازیۃ غصب دراھم إنسان من کیسہ ثم ردھا فیہ بلا علمہ بریٔ وکذا لو سلمہ إلیہ بجھۃ اُخریٰ کھبۃ ۔۔۔إلخ۔ قولہ ویبرأ بردھا أی برد العین المغصوبۃ إلی المغصوب منہ۔ (ردالمحتار ج:۶ ص:۱۸۲)۔