بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

معاملات

سوَر‌کا‌گوشت‌پکانے‌کی‌نوکری‌کرنا

سوال:۔

میں تمام عمر یہ سنتا آیا ہوں کہ سور کا گوشت کھانا حرام ہے، بالکل صحیح ہے۔ یہ سننے میں آیا ہے کہ سور جس جسم کے حصے پر لگ جائے وہ حصہ ناپاک ہوجاتا ہے۔ محترم جناب! ہم تو باورچی ہیں، جب تک سور کے گوشت کو کاٹیں گے نہیں، دھوئیں گے نہیں اور پکائیں گے نہیں تو انگریز ہمیں نوکری کیا دیں گے؟ جبکہ نمک چکھنے اور ذائقے کی بات باقی ہے۔ اگر انگریز کے پاس (یعنی نوکری میں) سور کا گوشت نہیں پکاتے تو انگریز مذاق اُڑاتے ہیں کیونکہ ہمارے پاکستانی بھائی وہاں پر شراب، زنا جیسی چیزوں کی پروا نہیں کرتے، بلکہ شراب مانگ لیتے ہیں انگریزوں سے، اور اگر نظر دوڑائی جائے چرس، بھنگ سب کا لین دین ہے، اخباروں میں یہ بیان آتے رہتے ہیں۔ کیا چرس، شراب، رشوت، زنا وغیرہ سے زیادہ سور کا گوشت اہمیت رکھتا ہے؟ مہربانی فرماکر مشکل مسئلے کو حل کریں۔

جواب:۔

سور کا گوشت جیسا کہ آپ نے لکھا ہے مسلمانوں کے لئے حرام ہے۔(۱) اللہ تعالیٰ کی زمین بہت وسیع ہے، انگریزوں کے پاس سور پکانے کی نوکری آپ کیوں کر رہے ہیں؟ کیا کوئی اور ذریعۂ معاش نہیں مل سکتا؟ رہی یہ بات کہ بعض لوگ شراب، زنا اور رشوت اور دُوسرے گناہوں کی پروا نہیں کرتے، تو یہ لوگ بھی گناہگار ہیں اور مجرم ہیں، لیکن ایک جرم کو دُوسرے جرم کے جواز کے لئے دلیل بنانا صحیح نہیں، ایک شخص اگر زنا کرتا ہے تو کیا اس کے حوالے سے دُوسرے شخص کو گناہ کرنا جائز ہوگا؟

  1. (۱) قَالَ تَعَالَى ﵟ إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيۡكُمُ ٱلۡمَيۡتَةَ وَٱلدَّمَ وَلَحۡمَ ٱلۡخِنزِيرِ وَمَآ أُهِلَّ بِهِۦ لِغَيۡرِ ٱللَّهِ ﵞ البقرة ١٧٣۔