بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

معاملات

شراب‌و‌خنزیر‌کا‌کھانا‌کھلانے‌کی‌نوکری‌جائز‌نہیں

سوال:۔

میں بطور میس بوائے (بیرے) کے کام کرتا ہوں، جس میں مجھے خنزیر کا گوشت اور شراب بھی روزانہ کھانے کی میزوں پر لگانا پڑتی ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کیا اس کی اُجرت جو ہم کو ملتی ہے وہ جائز ہے یا ناجائز؟ اسلام میں کونسی کمائی حلال اور کونسی حرام ہے؟ مختصر سی تشریح فرمادیں۔

جواب:۔

شراب اور خنزیر کا گوشت جس طرح کھانا جائز نہیں، اسی طرح کسی کو کھلانا بھی جائز نہیں۔(۱) اور ایک مسلمان کے لئے ایسی نوکری بھی جائز نہیں جس میں کوئی حرام کام کرنا پڑے۔(۲)

  1. (۱) وعن أنس ابن مالک قال: لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی الخمر عشرۃ: عاصرھا، ومعتصرھا، وشاربھا، وحاملھا، والمحمولۃ إلیہ، وساقیھا، وبائعھا، وآکل ثمنھا، والمشتریٰ لھا، والمشتراۃ لہٗ۔ (ترمذی ج:۱ ص:۲۴۲، باب فی بیع الخمر والنھی عن ذالک، طبع رشیدیہ دھلی)۔
  2. (۲) قَالَ تَعَالَى ﵟ وَتَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰۖ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ ﵞ المائدة ٢یعنی لَا تعاونوا علٰی إرتکاب المنھیات ولَا علی الظلم۔ (تفسیر مظھری ج:۳ ص:۱۹)۔ أیضًا: الْإستئجار علی المعاصی انہ لَا یصح لأنہ إستئجار علٰی منفعۃ غیر مقدورۃ الْإستیفاء شرعًا۔ (بدائع الصنائع ج:۴ ص:۱۸۹، کتاب الْإجارۃ، مطلب فیما یرجح إلی المعقود علیہ، طبع سعید)۔