بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

معاملات

گمشدہ‌بکری‌کے‌بچے‌کو‌کیا‌کیا‌جائے؟

سوال:۔

کیا فرماتے ہیں علمائے دِین اس مسئلے میں کہ ایک زیر تعمیر پلاٹ پر تقریباً دو ماہ کا ایک بکری کا بچہ نمازِ فجر سے قبل آگیا، جس کو بارہا بھگایا لیکن وہ نہیں گیا۔ اڑوسی پڑوسی سے دریافت کیا، کسی نے اپنا نہیں بتایا۔ اس علاقے کے چرواہے سے دریافت کیا، اس نے بھی انکار کیا، مسجد کے لاؤڈ اسپیکر سے کہلوایا، مگر کوئی لینے نہیں آیا۔ اب وہ تقریباً دس ماہ کا ہوگیا ہے، از رُوئے شرع کیا قانون لاگو ہوتا ہے؟

جواب:۔

اگر تلاش کے باوجود اس بکری کے بچے کا مالک نہیں مل سکا تو اس کا حکم گمشدہ چیز کا ہے کہ مالک کی طرف سے صدقے کی نیت کرکے کسی غریب محتاج کو دے دیا جائے، اگر بالفرض کبھی مالک مل جائے تو اس کو اختیار ہوگا، خواہ اس صدقے کو برقرار رکھے یا آپ سے اس کی قیمت وصول کرلے۔ دُوسری صورت میں یہ صدقہ آپ کی طرف سے ہوجائے گا۔(۱)

  1. (۱) وإن کانت أقلّ من عشرۃ دراھم عرّفھا أیّامًا وإن کانت عشرۃ فصاعدًا عرّفھا حولًا فإن جاء صاحبا وإلّا تصدّق بہ۔ وإن جاء صاحبھا بعد ما تصدق بھا فھو بالخیار، إن شاء أمضی الصدقۃ ولہ ثوابھا، وإن شاء ضمن الملتقط۔ (ھدایۃ ج:۲ ص:۶۱۴، ۶۱۵، کتاب اللقطۃ)۔