معاملات
راستےمیںملنےوالےسونےکےلاکٹکوکیاکیاجائے؟
سوال:۔
آج سے پانچ یا چھ سال پہلے جب میں ناسمجھ تھی تو ایک دن میری چھوٹی بہن نے باہر سے ایک لاکٹ لاکر دیا، جو اپنی زنجیر سے غالباً ٹوٹ کر گرگیا تھا۔ مجھے وہ بہت اچھا لگا، اس لئے میں نے رکھ لیا، میرا خیال تھا کہ یہ پیتل کا ہے، میں نے اپنی سہیلی کے والد سے پوچھوایا تو انہوں نے کہا کہ یہ پیتل ہی ہے، میں نے دس یا بارہ دِن ہ پہنا ہے، یعنی کبھی کبھی ہی پہن لیتی تھی، لیکن آج میں نے ایک جوہری کی دُکان سے پتا کروایا تو معلوم ہوا کہ یہ پانسہ کا سونا ہے اور اس کی قیمت ۸۰۰روپے ہے، یہ سن کر مجھے بہت افسوس بھی ہوا اور ڈَر بھی لگا، اس لئے اب آپ سے پوچھنا ہے کہ میں اس کا کیا کروں؟
۱:۔ کیا اسے بیچ کر اس کی قیمت صدقہ کردوں؟
۲:۔ کیا اس کی قیمت معلوم کرکے صدقہ کردوں اور اسے اپنے پاس رکھ لوں؟ ویسے اگر یہ بک بھی گیا تو سنا ہے کہ سنار اِستعمال شدہ سونا آدھی قیمت پر لیتے ہیں۔
۳:۔ میرے ماموں صدقے کے مستحق ہیں، ذہنی مریض ہیں، کیا لاکٹ کی قیمت سے ہم ان کا علاج کرواسکتے ہیں یا نہیں؟ کیونکہ اب اتنے عرصے بعد اس کے مالک کا پتا چلانا بھی مشکل ہے، کیونکہ میری بہن کو یہ عام گزرگاہ سے ملا تھا۔
جواب:۔
اس لاکٹ کی جتنی قیمت ہو، اتنی قیمت صدقہ کردیں۔(۱) اپنے ماموں کو بھی دے سکتی ہیں۔(۲)
- (۱) فإن جاء صاحبھا وإلّا تصدق بھا إیصالًا للحق إلی المستحق وھو واجب بقدر الْإمکان ۔۔۔إلخ۔ (ھدایۃ ج:۲ ص:۶۱۵ کتاب اللقطۃ)۔
- (۲) وإن کان الملتقط فقیر فلا بأس بأن ینتفع بھا ۔۔۔ وکذا إذا کان الفقیر أباہ أو إبنہ أو زوجتہ وإن کان ھو غنیًا۔ (ھدایۃ ج:۲ ص:۶۱۸ کتاب اللقطۃ)۔

