معاملات
دُکانپرچھوڑیہوئیچیزوںکاکیاکریں؟
سوال:۔
میری دُکان پر گاہک آتے ہیں، کبھی کبھار کوئی گاہک میری دُکان پر کھانے کی چیزیں جس میں فروٹ وغیرہ شامل ہوتا ہے بھول کر چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ آپ سے معلوم کرنا ہے کہ ان چیزوں کا کیا کیا جائے؟
۱:۔ اگر ان چیزوں کو اَمانتاً رکھ لیا جاتا ہے تو یہ خراب ہوجاتی ہے، زیادہ دیر رکھنے کی وجہ سے۔
۲:۔ کیا کسی غریب کو دینا جائز ہے یا خود رکھ سکتا ہے؟
۳:۔ یا پھر انہیں خراب ہونے دیں؟
جواب:۔
ان پھلوں کے خراب ہونے سے پہلے تک تو مالک کا انتظار کیا جائے، جب خراب ہونے کا اندیشہ ہو تو مالک کی طرف سے کسی محتاج کو دے دئیے جائیں۔ اگر بعد میں مالک آئے تو اس کو صحیح صورتِ حال سے آگاہ کردیا جائے، اگر مالک اس صدقہ کو جائز رکھے تو ٹھیک، ورنہ مالک کو ان پھلوں کی قیمت ادا کردیں اور یہ صدقہ آپ کی طرف سے شمار ہوگا۔(۱)
- (۱) ثم إن جاء لھا طالب بعد ذٰلک کان صاحبھا بالخیار، إن شاء ضمنہ مثلھا وکان الأجر للذی تصدق بھا، وإن شاء أمضٰی الصدقۃ وکان لہ الأجر۔ (الفقہ الحنفی وأدلّتہ ج:۳ ص:۱۲۱)۔ وفی شرح مختصر الطحاوی (ج:۴ ص:۵۵) کتاب اللقطۃ: عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وسئل عن اللقطۃ: لَا یحل اللقطۃ، من التقط شیئًا فلیعرفہ سنۃ، فإن جاء صاحبہ فلیردہ إلیہ، فإن لم یأت، فلیتصدق بہ، فإن جاء، فلیخیرہ بین الأجر وبین الذی لہ۔ (أیضًا سنن الکبریٰ للبیھقی ج:۶ ص:۱۸۸، طبع دار المعرفۃ، بیروت)۔

