بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

معاملات

گمشدہ‌چیز‌کا‌صدقہ‌کرنا

سوال:۔

عرض یہ ہے کہ مجھے ایک عدد گھڑی دفتر کے باتھ رُوم سے ملی ہے، میں نے اس کی اطلاع قریب کے تمام دفتروں میں کردی، قریبی مسجد میں اعلان کروادیا۔ اس کے علاوہ اشتہار لکھ کر مناسب جگہوں پر لگادیا تاکہ لوگوں کو معلوم ہوجائے اور اس کا اصل مالک مل جائے تو اس کی امانت اس کو واپس کردوں۔ اس واقعے کو عرصہ ڈیڑھ ماہ ہوچکا ہے، لیکن اس کا مالک نہیں ملا۔ آپ سے التماس ہے کہ شرعی نقطۂ نظر سے اس کا حل بتائیں کہ اس گھڑی کا استعمال کیسا ہے؟

جواب:۔

اگر اس کے مالک کے ملنے کی توقع نہ ہو تو مالک کی طرف سے صدقہ کردیا جائے، بعد میں اگر مالک مل جائے تو اس کو اختیار ہے کہ وہ اس صدقہ کو جائز رکھے یا آپ سے گھڑی کی قیمت وصول کرے، یہ صدقہ آپ کی طرف سے سمجھا جائے گا۔(۱)

  1. (۱) وإن کانت أقلّ من عشرۃ دراھم عرّفھا أیّامًا وإن کانت عشرۃ فصاعدًا عرّفھا حولًا فإن جاء صاحبھا وإلّا تصدق بہ، وإن جاء صاحبھا بعد ما تصدّق بھا فھو بالخیار إن شاء أمضی الصدقۃ ولہ ثوابھا، وإن شاء ضمن الملتقط۔ (ھدایۃ ج:۲ ص:۶۱۴،۶۱۵ کتاب اللقطۃ)۔