معاملات
گمشدہچیزمالککیطرفسےصدقہکردیاورمالکآگیاتوکیاحکمہے؟
سوال:۔
ایک مسجد کے خزانچی کو راستے سے ایک عدد سونے کا ٹوپس ملا تھا، انہوں نے لاؤڈاسپیکر سے اِعلان کیا، لیکن ۲۰یوم گزرنے کے باوجود بھی کوئی نہیں آیا تو انہوں نے پھر اِعلان کیا اور کہا کہ اگر دو ماہ تک مزید اس کو لینے کوئی نہیں آیا تو ہم اس کو فروخت کرکے مسجد کے کام میں لے لیں گے، عرض کرنا ہے کہ اگر میعاد گزرنے پر کسی وقت بھی اس ٹوپس کا اصل مالک آجائے اور وہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ میرا ٹوپس مسجد کے کام میں لیا جاچکا ہے لیکن پھر بھی وہ شخص ٹوپس کا تقاضا کرے تو کیا مسجد کی اِنتظامیہ اس شخص کو ٹوپس واپس کرنا پڑے گا یا نہیں؟
سوال:۔
اگر کسی شخص کو کوئی چیز بھی ملے اور وہ اس کا بارہا اِعلان کرے، اور پھر بھی مالک نہ آئے تو کیا وہ چیز خیرات کرسکتا ہے اس کے اصل مالک کے نام سے؟
اور اگر خیرات کرنے کے بعد اصل مالک کسی وقت بعد میں آجائے اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ چیز میرے ہی نام سے اس شخص نے خیرات کردی ہے، لیکن پھر بھی وہ اپنی چیز کا تقاضا کرتے تو کیا وہ شخص ذمہ دار ہے اس بات کا کہ اس شخص کو وہ چیز یا اس کی قیمت ادا کرے؟ یا میعاد گزرنے پر وہ ذمہ دار نہیں ہے؟
جواب:۔
اگر مالک مطالبہ کرے تو ضرور واپس کرنا پڑے گا۔(۱)
جواب:۔
مالک اگر اس صدقے کو بخوشی قبول کرے تو ٹھیک، ورنہ یہ چیز (یا اس کی قیمت) مالک کو واپس دِلائی جائے گی، اور وہ صدقہ گم شدہ چیز کو پانے والے کی طرف تصوّر کیا جائے گا۔(۲)
- (۱) فإذا جاء صاحبھا وأقام البینۃ سلمھا إلیہ۔ (الفقہ الحنفی وأدلّتہ ج:۳ ص:۱۲۴)۔ عن اُبیّ بن کعب عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم أنہ قال فی اللقطۃ، وذکر الحدیث وقال: فإن جاء صاحبھا فعرف عددھا، وَوِکائھا فادفعھا إلیہ ۔۔۔ وفی بعضھا: فإن جاء ربّھا فادفعھا إلیہ۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۴ ص:۴۹، طبع دار السراج، بیروت)۔
- (۲) ثم إن جاء لھا طالب بعد ذٰلک کان صاحبھا بالخیار، إن شاء ضمنہ مثلھا وکان الأجر للذی تصدق بھا، وإن شاء أمضٰی الصدقۃ وکان لہ الأجر۔ (الفقہ الحنفی وأدلّتہ ج:۳ ص:۱۲۱)۔ وفی شرح مختصر الطحاوی (ج:۴ ص:۵۵) کتاب اللقطۃ: عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وسئل عن اللقطۃ: لَا یحل اللقطۃ، من التقط شیئًا فلیعرفہ سنۃ، فإن جاء صاحبہ فلیردہ إلیہ، فإن لم یأت، فلیتصدق بہ، فإن جاء، فلیخیرہ بین الأجر وبین الذی لہ۔ (أیضًا سنن الکبریٰ للبیھقی ج:۶ ص:۱۸۸، طبع دار المعرفۃ، بیروت)۔

