معاملات
بچپنمیںگریپڑیچیزملی،گھروالوںنےاپنےپاسرکھلی،ابکیاکیاجائے؟
سوال:۔
بندہ کو تقریباً آج سے ۸-۹سال قبل ایک نہر کے کنارے سے سونے کی انگوٹھی ملی، تو اس وقت بچپن کی عمر تھی، گھر آکر بتایا تو گھر والوں نے وہ انگوٹھی رکھوالی۔ اب جس کی مالیت مبلغ ۲۰۰۰روپے کے قریب ہے، اب بندہ بالغ ہے، کیا گھر والوں سے لے کر اور فروخت کرکے اس کی قیمت نقد ادا کردے جبکہ گھر والے انگوٹھی واپس دینے پر تیار نہیں؟ ایسی حالت میں کیا کیا جائے؟
سوال:۔
بندہ ایک اسپورٹس کی دُکان چلاتا ہے، آج سے تقریباً سوا سال قبل ایک کرکٹ بیٹ بندہ کی دُکان پر کسی کا رہ گیا، جس کی مالیت تقریباً دو سو روپے تھی، آیاس کو بھی فروخت کرکے رقم کسی ضرورت مند کو صدقہ کردے؟
جواب:۔
دونوں سوالوں کا ایک ہی جواب ہے کہ اگر کسی کی گری پڑی چیز مل جائے اور مالک کے ملنے کی کوئی توقع نہ ہو تو اس کو فقراء پر صدقہ کردینا چاہئے، اگر آپ کے گھر کے لوگ نہیں دیتے تو تھوڑا تھوڑا کرکے آپ صدقہ کردیں، یہاں تک کہ آپ کے سر سے بوجھ اُتر جائے۔(۱)
- (۱) وأما إذا لم یجیء صاحبھا یتصدق بھا الملتقط لیصل ثوابھا إلٰی صاحبھا۔ (الفقہ الحنفی وأدلّتہ ج:۳ ص:۱۲۴)۔ قال أبوجعفر: وإذا وجد الرجل لقطۃ ۔۔۔ فإن جاء صاحبھا واستحقھا ببینۃ أقامھا علیھا دفعھا إلیہ، وإلّا تصدق بھا ولم یأکلھا ۔۔۔إلخ۔ (مختصر الطحاوی مع الشرح ج:۴ ص:۴۵، کتاب اللقطۃ والآبق)۔ وفیہ أیضًا: عن ابی صالح عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وسئل عن اللقطۃ لَا یحل اللقطۃ من التقط شیئًا ۔۔۔ فإن جاء صاحبہ فلیردہ إلیہ فإن لم یأت فلیتصدق بہ ۔۔۔إلخ۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۴ ص:۵۳)۔

