بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

معاملات

قرضے‌کی‌نیت‌سے‌چوری‌کرکے‌واپس‌رکھنا

سوال:۔

ایک آدمی کچھ پیسے اُدھار لینے کی نیت سے چوری کرتا ہے کہ بعد میں رکھ دُوں گا، اور اپنی ضرورت پوری ہونے کے بعد وہ واپس چوری کئے ہوئے پیسے رکھ دیتا ہے، تو کیا اسے سزا ملے گی کہ اس نے پیسے نکالے ہی کیوں؟

جواب:۔

چوری کرنے میں دو قصور ہیں، ایک اللہ تعالیٰ کا، کہ اس کے حکم کے خلاف کیا، دُوسرا بندے کا، کہ اس کے مال کا نقصان کیا۔ چوری کے پیسے واپس کردینے سے بندے کا حق تو ادا ہوگیا،(۱) لیکن اللہ تعالیٰ کا جو قصور کیا تھا وہ گناہ اس کے ذمہ رہا، وہ توبہ و اِستغفار سے معاف ہوگا۔(۲)

  1. (۱) ویبرأ بردھا ولو بغیر علم المالک فی البزازیۃ غصب دراھم إنسان من کیسہ ثم ردھا فیہ بلا علمہ بریٔ وکذا الوسلمہ إلیہ بجھۃ أخریٰ کھبۃ ۔۔۔إلخ۔ قولہ ویبرأ بردھا أی برد العین المغصوبۃ إلی المغصوب منہ۔ (شامی ج:۶ ص:۱۸۲)۔
  2. (۲) قَالَ تَعَالَى ﵟ وَمَن تَابَ وَعَمِلَ صَٰلِحٗا فَإِنَّهُۥ يَتُوبُ إِلَى ٱللَّهِ مَتَابٗا ﵞ الفرقان ٧١۔