معاملات
اپنیکمائیکامطالبہکرنےوالےوالدوبھائیکاخرچہکاٹنا
سوال:۔
تقریباً سات سال پہلے میں نے اپنے والدین اور چھوٹے بھائی کو بھی سعودی عرب بلوالیا، والد صاحب نے چار سال اور بھائی صاحب نے دو سال ایک اسٹور میں کام کیا، ان کی رہائش و خوراک ہمارے ساتھ ہی تھی، میرے بیوی بچے بھی یہاں میرے پاس ہی مقیم تھے، والد صاحب اور بھائی صاحب کی تنخواہ میرے پاس ہی جمع رہتی تھی، دورانِ قیام جتنی بھی ان کی ضروریات تھیں یا لوازماتِ زندگی، وہ پوری ہوتی رہیں، گاہے بگاہے وہ کچھ رقم لیتے بھی رہے، جو کہ میں اپنے پاس لکھتا رہا، اس کے علاوہ ان کے ویزا، ٹکٹ کا خرچہ، والدہ کا زیور، بھائی کی شادی بھی میں نے کی، اس کی شادی اور زیور کا خرچ اور حج کے اخراجات (والد صاحب نے چار حج کئے ہیں) اور خوراک کا خرچہ وغیرہ بھی ہوا، جو کہ سب تحریر ہے۔ تین سال پہلے بھائی اور والد واپس چلے گئے، ابھی تک ان کی کفالت میں ہی کرتا ہوں، بھائی کے دو بچے بھی ہوگئے ہیں، مگر وہ سب میرے ہی مکان میں رہتے ہیں، میرے والد صاحب کا مکان علیحدہ ہے جو کہ ان کے نام ہے، مگر ان کی رہائش میرے ہی ساتھ ہے، اب ایک سال سے والد صاحب مجھ سے تقاضا کر رہے ہیں۔ سعودی عرب میں قیام کے دوران ان کی اور چھوٹے بھائی کی کمائی جو انہوں نے کی ہے وہ سب مانگ رہے ہیں، میں نے انہیں لکھا کہ اس دوران آپ لوگوں پر کچھ اِخراجات بھی ہوئے ہیں لہٰذا وہ کٹوتی کرکے باقی دے دوں گا۔ جو کچھ بھی خرچ ہوا اس کا حساب کرکے میں نے ان کو تحریر کردیا، مگر وہ میری اس بات سے ناراض ہوگئے، کیا میں نے ان سے زیادتی کی ہے یا ظلم کیا ہے؟ انہوں نے مجھے جواباً ظالم، نافرمان، جہنمی لکھا ہے، کیا ایک آدمی جو کماتا ہے اس کی اپنی کمائی سے خرچ کا حق ہوتا ہے یا نہیں؟ پہلے وہ سب رقم مانگ رہے تھے، اب میرے لکھنے پر انہوں نے لکھا ہے کہ خوراک کا جو کاٹا ہے وہ واپس کرو ورنہ لعنتی دوزخ میں جاؤگے۔ اگر وہ میرے پاس نہ رہتے دُوسرے شہر میں کام کرتے تو تب اپنی خوراک و رہائش کا بندوبست و خرچہ ان کو خود کرنا تھا یا نہیں، شرعی طور پر کیا صحیح ہے؟ وہ کہتے ہیں کہ اپنا مکان میرے نام رجسٹرڈ کرادو اور اپنا بینک اکاؤنٹ بھی میرے نام ٹرانسفر کرادو، ساتھ ہی ایک حدیث کا حوالہ دیا ہے۔
جواب:۔
ان کا یہ مطالبہ شرعاً جائز نہیں، اور حدیث کا اس موقع پر حوالہ دینا بھی غلط ہے۔ حدیث اس صورت سے متعلق ہے جبکہ باپ محتاج ہو، اس صورت میں وہ اپنے بیٹے کے مال سے بقدرِ ضرورت لے سکتا ہے۔(۱)
گھر میں جو اِخراجات ہوتے رہے آپ ان سے حصہ رسدی وصول کرنے کے حق دار ہیں۔(۲) لیکن اگر آپ خوراک کے اِخراجات اپنے حصے میں ڈال لیں، ان سے وصول نہ کریں تو والد صاحب کی ناراضگی دُور ہوسکتی ہے، اور یہ آپ کے لئے موجبِ سعادت ہوگا۔ خلاصہ یہ کہ آپ قانوناً یہ اِخراجات ان سے وصول کرسکتے ہیں، لیکن مروّت کا تقاضا یہ ہے کہ ان سے کھانے کے اِخراجات وصول نہ کریں۔
- (۱) عن عمرو بن شعیب عن أبیہ عن جدّہ ان رجلًا أتی النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال: ان لی مالًا وان والدی یحتاج إلٰی مالی، قال: أنت ومالک لوالدک ۔۔۔إلخ۔ وفی الحدیث دلیل علٰی وجوب النفقۃ الوالد علٰی ولدہ۔ (مرقاۃ ج:۳ ص:)۔
- (۲) بوادر النوادر ص:۴۸۷، طبع إدارہ إسلامیات۔

