معاملات
اسسالکا’’بوائزفنڈ‘‘آئندہسالکےلئےبچالینا
سوال:۔
بکر ایک پرائمری اسکول کا ہیڈماسٹر ہے، اس کو ہر سال بچوں کے لئے ۵۰۰۰ (پانچ ہزار) روپے ’’بوائز فنڈ‘‘ ملتا ہے، اور ’’بوائز فنڈ‘‘ کی مد کے اخراجات سے جو رقم بچ جاتی ہے وہ دُوسرے تعلیمی سال کے فنڈ میں جمع کردیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ رقم تو پچھلے سال کے بچوں کا حق ہے اور قانوناً اس کو اسی سال خرچ بھی کردینا چاہئے، تو کیا جو بچے اسکول چھوڑ کر جاتے رہے، ان کے تعلیمی سال کا فنڈ دُوسرے بچوں پر خرچ کیا جاسکتا ہے کہ نہیں؟
جواب:۔
اگر اس نے طالب علموں کی ضروریات پوری کرنے میں بخل سے کام لیا تب تو گناہگار ہوگا، ورنہ جو رقم بچ جائے اسے آئندہ سال کے فنڈ میں جمع کرنا ہی چاہئے۔(۱)
- (۱) قَالَ تَعَالَى ﵟ إِنَّ ٱللَّهَ يَأۡمُرُكُمۡ أَن تُؤَدُّواْ ٱلۡأَمَٰنَٰتِ إِلَىٰٓ أَهۡلِهَا ﵞ النساء ٥٨۔

