بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

معاملات

ناجائز‌کام‌کا‌جواب‌دار‌کون‌ہے،‌افسر‌یا‌ماتحت؟

سوال:۔

فرض کریں کوئی بھی سرکاری محکمے کا افسر اپنے زیر دست سرکاری ملازم کو ناجائز کام کرنے کا حکم دیتا ہے تو کیا وہ زیر دست سرکاری ملازم اپنے سرکاری اعلیٰ افسر کا حکم مانے، اگر وہ زیر دست سرکاری ملازم اپنے سرکاری اعلیٰ افسر کا حکم مانتا ہے تو کیا قیامت کے روز یعنی (حشر کے دن) اس ناجائز کام کا حساب سرکاری اعلیٰ افسر سے ہوگا یا اس کے زیر دست سرکاری ملازم سے؟

جواب:۔

یہ دونوں مجرم ہیں،(۱) اعلیٰ افسر ناجائز کام کا حکم دینے کی وجہ سے گرفتار ہوکر آئے گا، اور اس(۲) کا ماتحت ناجائز کام کرنے کی وجہ سے۔

  1. (۱) عن عبداللہ بن عمر ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ألَا کلکم راع وکلکم مسئول عن رعیتہ فالْإمام الذی علی الناس راع وھو مسئول عن رعیتہ ۔۔۔إلخ۔ (بخاری ج:۲ ص:۱۰۷۵)۔ أیضًا: إن الْإعانۃ علی المعصیۃ حرام مطلقًا بنص القرآن أعنی قولہ تعالٰی: ﵟ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ ﵞ۔ (أحکام القرآن لمفتی محمد شفیع ج:۳ ص:۷۴)۔
  2. (۲) قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لَا طاعۃ فی معصیۃ، إنما الطاعۃ فی المعروف۔ (مشکٰوۃ ص:۳۱۹، کتاب الْإمارۃ والقضاء)۔ أیضًا: ولَا تعاونوا علی الْإثم والعدوان۔ (المائدۃ:۲)۔