معاملات
گیس،بجلیوغیرہکےبلجانبوجھکرلیٹبھیجنا
سوال:۔
ہمارے معاشرے میں لوٹ کھسوٹ اور رقم بٹورنے کا رواج اتنا عام ہوگیا ہے کہ اب سارے سرکاری ادارے بھی ان میں شامل ہوگئے ہیں، سرکاری اداروں نے اب یہ طریقۂ کار بنالیا ہے کہ بجلی، گیس وغیرہ ہر قسم کے واجبات کے بل جب صارفین کو بھیجے جاتے ہیں تو ان پر لکھا ہوتا ہے کہ فلان تاریخ تک بل کی رقم ادا کردیں، ورنہ لیٹ فیس یعنی سرچارج جرمانہ ۵ سے ۲۰ فیصد تک اضافی ہوگا۔ اب ایسے تمام بل بذریعہ ڈاک تقسیم ہوتے ہیں، جو اکثر و بیشتر ادائیگی کی تاریخ نکل جانے کے بعد ہی صارف کو پہنچتے ہیں، یا پہلے ملتے ہیں تو بھی ایک یا دو دن باقی ہوتے ہیں، جبکہ ان دنوں صارف گھر پر موجود نہیں ہوتا، بینک کی چھٹی ہوتی ہے، وغیرہ وغیرہ، یعنی نتیجتاً ایک بڑی تعداد بلوں کی مقرّرہ تاریخ کے بعد جمع ہونے کی وجہ سے مع لیٹ فیس ماہانہ جمع ہوتے ہیں، آپ شریعت کے مطابق فتویٰ دے کر مشکور فرمادیں کہ:
۱:۔ کیا رقم کی وصولی میں لیٹ فیس یا سرچارج وصول کرنا جائز ہے؟ ایسی فالتو رقم وصول کی ہوئی حلال ہوگی؟
۲:۔ کیا حکومتی اداروں کے علاوہ دُوسرے افراد یا ادارے بھی یہ طریقۂ وصولی اختیار کرسکتے ہیں جس میں اُدھار کی رقم اگر مقرّرہ تاریخ کو نہ وصول ہو تو من مانا سرچارج جرمانہ وصول کریں اور آیا ایسی فالتو بٹوری ہوئی رقم وصول کنندہ کے لئے حلال تصوّر ہوگی؟
۳:۔ کیا ایسی رقم جو بلوں میں ناجائز طور پر چارج کی جاتی ہے اور صارف ان کو حق بجانب نہیں سمجھتا اور محکمے کے عمال زبردستی چارج کرلیتے ہیں، حکومت کے لئے حلال ہوگی؟
ہمارا اسلامی ملک ہے، یہاں ہر وقت نظامِ مصطفی کا مطالبہ رہتا ہے، حلال کی کمائی بنیادی شرط ہے، لیکن سرکاری خزانے میں اکثر ایسی رقم جاتی ہے جو عوام سے بے جواز وجوہات پر زبردستی وصول کرلی جاتی ہے، اب آپ اس سلسلے میں واضح فتویٰ دیں۔
جواب:۔
آپ نے جو شکایت لکھی ہے، اگر صارف کو اس کا تجربہ ہے اور جب بل ایسے وقت پہنچایا جائے کہ بروقت جمع کرانا ممکن نہ ہو تو اس پر لیٹ فیس وصول کرنا صریحاً ظلم ہے اور ناجائز ہے، متعلقہ اِداروں کو اس پر توجہ کرنی چاہئے اور ناجائز اِستحصال سے اِحتراز کرنا چاہئے۔(۱)
- (۱) وفی شرح الآثار: التعزیر بالمال کان فی إبتداء الْإسلام ثم نسخ والحاصل ان المذھب عدم التعزیر بأخذ المال۔ (ردالمحتار ج:۴ ص:۶۱)۔ أیضًا: عن أبی حرۃ الرقاشی عن عمہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ألَا لَا تظلموا! ألَا لَا یحل مال امریء إلّا بطیب نفس منہ۔ (مشکٰوۃ ص:۲۵۵)۔ أیضًا: تفصیل کے لئے دیکھیں: کفایۃ المفتی ج:۲ ص:۲۰۵، طبع دار الاشاعت۔

