بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

معاملات

چوری‌کی‌بجلی‌کے‌ذریعے‌چلنے‌والی‌موٹر‌کے‌پانی‌سے‌پکا‌ہوا‌کھانا‌کھانا

سوال:۔

حکومتی بجلی چوری کرنا بریکٹ یا کنڈے لگاکر کیسا ہے؟ نیز اس بجلی سے موٹر چلتی ہے، جس سے کھانے پینے، وضو وغیرہ کے لئے پانی بھرا جاتا ہے، آیا اس چوری کی بجلی کے حوالے سے کی گئی عبادت قبول ہے یا نہیں؟

سوال:۔

ایسے لوگ جن کے گھر میں اس قسم کی بجلی کے اِستعمال سے حاصل شدہ پانی سے کھانا پکتا ہو، کھانا کھانا کیسا ہے؟

جواب:۔

بجلی کی چوری جائز نہیں،(۱) اس سے عبادت کا ثواب بھی ضائع ہوجاتا ہے، توبہ کرنی چاہئے۔(۲)

جواب:۔

نہ کھایا جائے۔

  1. (۱) تصرف الْإنسان فی مال غیرہ لَا یجوز إلّا بإذن أو ولَایۃ۔ (الجوھرۃ النیرۃ، کتاب الشرکۃ ج:۱ ص:۲۸۷)۔
  2. (۲) عن ابن عمر قال: من اشتری ثوبا بعشرۃ دراھم أی مثلًا وفیہ أی فی ثمنہ درھم أی شیء قلیل حرام لم یقبل اللہ تعالٰی لہ صلاۃ أو لَا یثاب علیھا کمال الثواب وإن کان مثابًا بأصل الثواب وأما ما أصل الصلاۃ فصحیحۃ بلا کلام ذکرہ ابن المالک وقال الطیبی رحمہ اللہ کان الظاھر أن یقال منہ لٰـکن المعنی لم یکتب اللہ لہ صلاۃ مقبولۃ مع کونھا مجزئۃ مسقطۃ للقضاء کالصلاۃ فی الدار المغصوبۃ اھـ۔ وھو الأظهر لِقَوْلِهِ تَعَالَىﵟ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ ٱللَّهُ مِنَ ٱلۡمُتَّقِينَ ﵞ المائدة ٢٧والثواب انما یترتب علی القبول کما أن الصحۃ مترتبۃ علٰی حصول الشرائط والأرکان والتقوی لیست بشرط لصحۃ الطاعۃ عند أھل السُّنَّۃ والجماعۃ۔ (مرقاۃ شرح المشکٰوۃ ج:۳ ص:۳۰۰ باب الکسب وطلب الحلال، الفصل الثالث، طبع بمبئی)۔