معاملات
جانبوجھکربجلی،گیس،ٹیلیفونکےبِلدیرسےبھیجناتاکہلیٹفیسوصولہو،انکایہفعلکیساہے؟
سوال:۔
اگر بجلی، گیس اور ٹیلیفون کے بِل دو تین دِن پہلے مل جائیں، تو عملی طور پر یا ناممکن ہے کہ بِل بروقت جمع ہوجائیں، کیونکہ آخری تاریخوں کے سبب بینک کی کھڑکیوں پر لمبی لمبی قطاریں ہوتی ہیں، اور بسااوقات ان حالات اور بعض دیگر وجوہات کی بنا پر بلوں کی ادائیگی میں تأخیر کے سبب سرچارج برداشت کرنا ہی پڑتا ہے۔
اسی طرح ان سرکاری اِداروں کی بدنیتی صاف ظاہر ہے، صرف ایک دِن کے ہیرپھیر سے لاکھوں روپے غریب صارفین سے بٹور لیتے ہیں، اسلام کی رُو سے ایسے لوگوں کے لئے کیا حکم ہے؟
جواب:۔
قریب قریب تمام سرکاری اِداروں سے لوگوں کو عام طور پر شکایت ہے، اور سچ تو یہ ہے کہ دُوسروں کو خواہ کتنا ہی بُرا کہتے رہیں، مگر ہر شخص کا اپنا ضمیر خود اس بات کی شہادت ہے کہ وہ ظلم کی دوڑ میں کسی سے پیچھے نہیں ۔۔۔اِلَّاماشاء اللہ۔۔۔ کچھ لوگ اب بھی ہیں جو دیانت داری سے کام کرتے ہیں۔

