معاملات
نقلکرکےاسکالرشپکاحصولاوررقمکااستعمال
سوال:۔
کسی طالب علم کو اسکول یا کالج کی طرف سے اسکالر شپ کی رقم ملی اور وہ اسکالر شپ کی رقم اس کو اچھے نمبر حاصل کرنے کی وجہ سے ملی، اور وہ اچھے نمبر اس نے امتحان میں نقل کرکے حاصل کئے، اس رقم کی شرعی حیثیت کیا ہوئی؟ اگر ناجائز ہے تو اس کو کسی دِینی کام میں لگاسکتے ہیں یا نہیں؟
جواب:۔
اگر اس کو نقل کرنے کی وجہ سے اِنعام ملا تو یہ شخص اِنعام کا مستحق نہیں، اس نے دھوکے سے اِنعام حاصل کیا اور دھوکے سے جو رقم حاصل کی جائے وہ حرام ہے۔(۱) اور حرام پیسہ کسی دِینی کام میں لگانا جائز نہیں،(۲) اس شخص کو چاہئے کہ وہ اپنے اس فعل پر ندامت کے ساتھ توبہ کرے اور یہ رقم کسی محتاج کو بغیر نیتِ صدقہ کے دے دے۔(۳)
- (۱) عن أبی ھریرۃ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرّ علٰی صبرۃ من طعام فأدخل یدہ فیھا فنالت أصابعہ بللًا فقال: یا صاحب الطعام! ما ھٰذا؟ قال: أصابتہ السماء یا رسول اللہ! قال: افلا جعلتہ فوق الطعام حتّٰی یراہ الناس، ثم قال: من غش فلیس مِنّا ۔۔۔إلخ۔ والعمل علٰی ھٰذا عند أھل العلم کرھوا الغش وقالوا الغش حرام۔ (ترمذی ج:۱ ص:۲۴۵، کتاب البیوع)۔
- (۲) عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إن اللہ طیب لَا یقبل إلّا طیّبًا ۔۔۔إلخ۔ (مشکٰوۃ ص:۲۴۱)۔
- (۳) سبیل الکسب الخبیث التصدق إذا تعذر الرد علٰی صاحبہ۔ (شامی ج:۶ ص:۳۸۵، کتاب الحظر والْإباحۃ)۔

