بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

معاملات

ڈرائنگ‌ماسٹر‌کی‌ملازمت‌شرعاً‌کیسی‌ہے؟

سوال:۔

میرا بھائی بہترین آرٹسٹ ہے، ہم اسے ڈرائنگ ماسٹر بنانا چاہتے ہیں، بعض لوگ کہتے ہیں کہ آرٹ ڈرائنگ اسلام میں ناجائز ہے، وضاحت کریں کہ ڈرائنگ ماسٹر کا پیشہ اسلام میں دُرست ہے یا غلط؟

جواب:۔

آرٹ ڈرائنگ بذاتِ خود تو ناجائز نہیں، البتہ اس کا صحیح یا غلط استعمال اس کو جائز یا ناجائز بنادیتا ہے، اگر آپ کے بھائی جاندار چیزوں کے تصویری آرٹ کا شوق رکھتے ہیں تو پھر یہ ناجائز ہے،(۱) اور اگر ایسا آرٹ پیش کرتے ہیں جس میں اسلامی اُصولوں کی خلاف ورزی نہیں ہوتی تو جائز ہے۔

  1. (۱) وعن ابن عباس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: یقول کل مصور فی النار یجعل لہ بکل صورۃ صورھا نفسا فیعذبہ فی جھنم۔ قال ابن عباس: فإن کنت لَا بُدّ فاعلًا فاصنع الشجر وما لَا رُوح فیہ۔ متفق علیہ۔ (مشکٰوۃ ص:۳۸۵، کتاب التصاویر)۔ وفی مرقاۃ المفاتیح شرح المشکٰوۃ: قال أصحابنا وغیرھم من العلماء تصویر صورۃ الحیوان حرام شدید التحریم وھو من الکبائر لأنہ متوعد علیہ بھٰذا الوعید الشدید المذکور فی الأحادیث سواء صنعہ فی ثوب أو بساط أو درھم أو دینار أو غیر ذالک وأما تصویر صورۃ الشجر والرِّجل والجبل وغیر ذالک فلیس بحرام ھٰذا حکم نفس التصویر۔ (مرقاۃ المفاتیح ج:۴ ص:۴۸۳ طبع بمبئی)۔ وفی فتاوی الشامیۃ: أما فعل التصویر فھو غیر جائز مطلقًا لأنہ مضاھاۃ لخلق اللہ تعالٰی ۔۔۔ فصنعتہ حرام بکل حال لأنہ فیہ مضاھاۃ لخلق اللہ۔ (شامی ج:۱ ص:۶۵۰، ۶۴۷)۔