بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

معاملات

سرکاری‌ڈیوٹی‌صحیح‌ادا‌نہ‌کرنا‌قومی‌و‌ملّی‌جرم‌ہے

سوال:۔

زید کا بحیثیت ورکس شاپ اٹینڈنٹ کے تقرّر کیا جاتا ہے لیکن وہ اپنے فرائضِ منصبی قطعی طور پر انجام نہیں دیتا، لیکن حکومت سے ماہانہ تنخواہ وصول کرتا ہے، کیا اس کی ماہانہ تنخواہ شرعی حدود کے مطابق جائز ہے؟

جواب:۔

جس کام کے لئے کسی کا تقرّر کیا گیا ہو اگر وہ اس کام کو ٹھیک ٹھیک انجام دے گا تو تنخواہ حلال ہوگی ورنہ نہیں۔(۱) جو سرکاری ملازمین اپنی ڈیوٹی صحیح طور پر ادا نہیں کرتے تو وہ خدا کے بھی خائن ہیں اور قوم کے بھی خائن ہیں، اور ان کی تنخواہ شرعاً حلال نہیں۔ دُنیا میں اس خیانت کا خمیازہ انہیں یہ بھگتنا پڑتا ہے کہ اچھی آمدنی، اچھی رہائش اور اچھی خاصی آسائش اور آسودگی کے باوجود ان کا سکون غارت اور رات کی نیند حرام ہوجاتی ہے، طاعت و عبادت کی توفیق سلب ہوجاتی ہے اور آخرت کا عذاب مرنے کے بعد سامنے آئے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنی پناہ میں رکھیں۔ بہرحال اپنی ڈیوٹی ٹھیک طور پر بجا نہ لانا ایک ایسا دِینی، اخلاقی اور قومی و ملّی جرم ہے کہ آدمی اس گناہ کی معافی بھی نہیں مانگ سکتا۔

  1. (۱) لأجیر الخاص الذی یستحق الأجرۃ بتسلیم نفسہ فی المدّۃ وإن لم یعمل کمن استوجر شھرًا للخدمۃ أو لرعی الغنم، وإنما سمی أجیر وحد لأنہ لَا یمکنہ أن یعمل لغیرہ لأن منافعہ فی المدۃ صارت مستحقۃ لہ۔ وفی حاشیۃ ھدایۃ أی سلّم نفسہ ولم یعمل مع التمکّن، أما إذا امتنع ومضت المدّۃ لم یستحقّ الأجر، لأنّہ لم یوجد تسلیم النّفس۔ (ھدایۃ ص:۳۱۰ باب ضمان الأجیر)۔