معاملات
غلطاوورٹائمکیتنخواہلینا
سوال:۔
آج کل خاص طور پر سرکاری دفاتر میں یہ بیماری عام ہے کہ لوگ بوگس اوورٹائم اور بوگس ٹی اے ڈی اے حاصل کرتے ہیں جس سے گورنمنٹ کو کروڑوں روپے سالانہ نقصان ہوتا ہے، اس طرح بعض لوگ مہینے میں ۸ یا ۱۰ دن دفتر آتے ہیں مگر تنخواہ پورا مہینہ حاصل کرتے ہیں۔
الف:۔ وہ لوگ جو اوورٹائم ٹی اے، ڈی اے اور بوگس تنخواہ حاصل کرتے ہیں، ان کی کمائی کیسی ہے؟
ب:۔ جو افسران اوورٹائم، ٹی اے، ڈی اے اور تنخواہ تیار کرتے ہیں اور ان کاغذات پر کئی افسران دستخط بھی کرتے ہیں، کیا انہیں بری الذمہ قرار دیا جاسکتا ہے یا وہ بھی اس کام میں برابر کے شریک ہیں؟ ان لوگوں کی کمائی سے زکوٰۃ، صدقات اور دُوسرے فلاحی کاموں میں خرچ کی گئی رقم قابلِ قبول ہے یا نہیں؟
جواب:۔
ظاہر ہے کہ ان کی کمائی خالص حرام ہے،(۱) اور جو اَفسران اس کی منظوری دیتے ہیں وہ اس جرم اور حرام کام میں برابر کے مجرم ہیں۔ صدقہ و خیرات حلال کمائی سے قبول ہوتی ہے، حرام سے نہیں۔(۲) حرام مال سے صدقہ کرنے کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص گندگی کا پیکٹ کسی کو تحفے میں دے۔
- (۱) ولیس للخاص أن یعمل لغیرہ، لو عمل نقص من أجرتہ بقدر ما عمل فتاوی النوازل۔ وقال العلامۃ ابن العابدین قولہ ولیس للخاص أن یعمل لغیرہ بل لَا أن یصلّی النافلۃ وإذا استأجر رجلًا یومًا أن یعمل کذا فعلیہ أن یعمل ذالک العمل إلٰی تمام المدّۃ ولَا یشغل بشیء آخر سوی المکتوبۃ۔ (ردالمحتار ج:۶ ص:۷۰ مطلب لیس للأجیر الخاص أن یصلی النافلۃ)۔
- (۲) عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من تصدّق بعدل تمرۃ من کسب طیّب ولَا یقبل اللہ إلّا الطیب، فإن اللہ یتقبلھا بیمینہ ثم یربّیھا لصاحبھا کما یربّی أحدکم فلوّہ حتّٰی یکون مثل الجبل۔ (مشکٰوۃ ص:۱۶۷، باب فضل الصدقۃ)۔

