بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

معاملات

اوورٹائم‌لکھوانا‌اور‌اس‌کی‌تنخواہ‌لینا

سوال:۔

میں نماز روزے کا سختی سے پابند ہوں اور حلال رزق میری جستجو ہے۔ لیکن ایک رُکاوٹ پیش آرہی ہے جو کہ مندرجہ ذیل ہے۔ بزرگوارم! میں ایک مالیاتی اِدارے میں ملازم ہوں جہاں مقرّر شدہ اوقات کار ختم ہونے کے بعد مزید چند گھنٹے خدمات سرانجام دینا پڑتی ہیں، جس کا علیحدہ سے معاوضہ دیا جاتا ہے، جس کا طریقۂ کار یہ ہے کہ تمام ملازمین کو جنھوں نے اوورٹائم کیا ہوتا ہے اوورٹائم ختم کرنے کے بعد ایک رجسٹر پر دستخط کرنے پڑتے ہیں، جس میں ٹوٹل اوورٹائم کتنے گھنٹے کیا اور ساتھ میں وقت اور دستخط تحریر کرنا پڑتے ہیں، لیکن اس تحریر کردہ اور دستخط شدہ وقت سے دو گھنٹے پہلے ہی چھٹی کرلی جاتی ہے اور صرف ایک گھنٹہ کام کیا جاتا ہے، کافی اِداروں میں ایسا ہوتا ہے، تو مزید جو دو گھنٹے کا بھی (جس میں ہم کام نہیں کرتے، چھٹی کرجاتے ہیں) معاوضہ وصول کرتے ہیں کیا وہ ہمارے لئے حلال ہے؟ ہم اسے اپنے بال بچوں کے پیٹ کے لئے استعمال کرسکتے ہیں؟

جواب:۔

معاوضہ صرف اتنے وقت کا حلال ہے جس میں کام کیا ہو، اس سے زیادہ وقت کا رجسٹر میں اندراج کرنا جھوٹ اور بددیانتی ہے، اور اس کا معاوضہ وصول کرنا قطعی حرام ہے۔(۱)

  1. (۱) ولأجیر الخاص الذی یستحق الأجرۃ بتسلیم نفسہ فی المدّۃ وإن لم یعمل کمن استوجر شھرًا للخدمۃ أو لرعی الغنم۔ وإنما سمی أجیر وحد لأنہ لَا یمکنہ أن یعمل لغیرہ لأن منافعہ فی المدۃ صارت مستحقۃ لہ۔ وفی حاشیۃ الھدایۃ: أی سلّم نفسہ ولم یعمل مع التمکّن أما إذا امتنع ومضت المدّۃ لم یستحقّ الأجر، لأنّہ لم یوجد تسلیم النّفس۔ (ھدایۃ آخرین ص:۳۱۰ باب ضمان الأجیر)۔ أیضًا: الأجیر الخاص یستحق الأجرۃ إذا کان فی مدۃ الْإجارۃ حاضرًا للعمل ولَا یشترط عملہ بالفعل، لٰـکن لیس لہ أن یمتنع عن العمل وإذا امتنع لَا یستحق الأجرۃ۔ (شرح المجلۃ ص:۲۳۹، المادّۃ:۴۲۵)۔