معاملات
غلطبیانیسےعہدہلینےوالےکیتنخواہکیشرعیحیثیت
سوال:۔
پاکستان سے ایک صاحب جعلی سرٹیفکیٹ بنواکر یہاں سعودیہ میں ایک بڑی پوسٹ پر آکر فائز ہوئے، پاکستان کے متعلقہ حکام بہت حیرت زدہ ہوئے، اس لئے کہ پاکستان میں یہ صاحب ماضی میں اس عہدے کے اسسٹنٹ کی حیثیت سے کام کرچکے تھے اور اپنی نالائقی کی بنا پر اسسٹنٹ کے عہدے سے بھی متعلقہ محکمے سے نکالے جاچکے تھے۔ اسسٹنٹ سے آگے محنت کرکے قانونی طور پر ترقی کرنا ان کے لئے قطعی ناممکن تھا، اس طرح انہوں نے اس دُنیا میں تو چالاکی سے جعلی سرٹیفکیٹ کے ذریعہ دُوسرے ملک والوں کو بے وقوف بنالیا اور یہاں اس بڑے عہدے پر جیسے تیسے کام کر رہے ہیں، اس طرح انہوں نے پاکستان سے آنے والے ایک موزوں اور قابل انسان کی حق تلفی بھی کی۔ اب ان کی اس کمائی کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟ کیا بہت سے حج اور عمرے کرنے سے ان کا یہ جان بوجھ کر کیا ہوا گناہ دُھل سکتا ہے؟
جواب:۔
جھوٹ اور جعل سازی کے ذریعہ کوئی عہدہ و منصب حاصل کرنا یہ تو ظاہر ہے کہ حرام ہے، اور جھوٹ، دغابازی اور فریب دہی پر جتنی وعیدیں آئی ہیں، یہ شخص ان کا مستحق ہے، مثلاً: جھوٹوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت۔(۱) ارشادِ نبوی ہے کہ دھوکا کرنے والا ہم میں سے نہیں ہے۔(۲) اس لئے جعل سازی خواہ چھوٹی کی ہو یا بڑی، ایسے شخص کے بدکار، گناہگار ہونے میں تو کوئی شبہ نہیں، اللہ تعالیٰ سے توبہ کرنی چاہئے۔ باقی رہا یہ مسئلہ ایسے شخص کی کمائی بھی حلال ہے یا نہیں؟ اس کے لئے یہ اُصول یاد رکھنا چاہئے کہ اگر یہ شخص اس منصب کی اہلیت و صلاحیت رکھتا ہے اور کام بھی صحیح کرتا ہے تو اس کی تنخواہ حلال ہے، اور اگر منصب کا سرے سے اہل نہیں، یا کام ٹھیک سے انجام نہیں دیتا تو اس کی تنخواہ حرام ہے۔(۳) اس اُصول کو وہ صاحب ہی نہیں بلکہ تمام سرکاری و غیرسرکاری افسران و ملازمین پیشِ نظر رکھیں۔ میرے مشاہدے و مطالعے کی حد تک ہمارے افسران و ملازمین میں سے پچاس فیصد حضرات ایسے ہیں جو یا تو اس منصب کے اہل ہی نہیں، محض سفارش یا رشوت کے زور سے اس منصب پر آئے ہیں، یا اگر اہل ہیں تو اپنی ڈیوٹی صحیح طور پر نہیں بجالاتے، ایسے لوگوں کی تنخواہ حلال نہیں۔ وہ خود بھی حرام کھاتے ہیں اور گھر والوں کو بھی حرام کھلاتے ہیں۔
- (۱) قَالَ تَعَالَى ﵟ لَعۡنَتَ ٱللَّهِ عَلَى ٱلۡكَٰذِبِينَ ﵞ آل عمران ٦١۔
- (۲) قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: من غشّنا فلیس منّا۔ الحدیث۔ (ترمذی ج:۱ ص:۲۴۵ باب ما جاء فی کراھیۃ الغش فی البیوع، طبع قدیمی)۔
- (۳) أحسن الفتاویٰ ج:۸ ص:۱۹۸۔

