بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

معاملات

غیرحاضریاں‌کرنے‌والے‌ماسٹر‌کو‌پوری‌تنخواہ‌لینا

سوال:۔

ایک صاحبِ علم آدمی ایک اسکول میں ماسٹر ہے، مگر وہ اپنے علاقے کے لوگوں کے معاملات میں اس قدر مصروف ہے کہ باقاعدگی سے اسے اسکول میں حاضری کا موقع نہیں ملا کرتا، بلکہ زیادہ سے زیادہ مہینے میں کوئی ۱۷، ۱۸ حاضریاں اس کی بنیں گی، تو کیا اس کو اس بنا پر پوری تنخواہ وصول کرنا جائز ہوگا کہ وہ خدمتِ خلق اور لوگوں کے کاموں میں مصروف ہے جبکہ اسکول میں ایسا دُوسرا ماسٹر موجود ہو جو اس کے پیریڈ لے سکے؟

جواب:۔

ماسٹر صاحب کو تنخواہ تو پڑھانے کی ملتی ہے، خدمتِ خلق کی نہیں ملتی۔ اس لئے وہ جتنی پڑھائی کریں بس اتنی ہی تنخواہ کے مستحق ہیں، اس سے زیادہ ناجائز لیتے ہیں۔(۱)

  1. (۱) قال العلامۃ ابن عابدین: بخلاف ما إذا لم یقدر لکل یوم مبلغًا فإنّہ یحلّ لہ الأخذ، فإن لم یدرّس فیھا للعرف بخلاف غیرھا من أیّام الأسبوع حیث لَا یحلّ لہ الأجر یوم لم یدرّس فیہ مطلقًا سواء قدّر لہ الأجر یوم أو لَا۔ (رد المحتار ج:۴ ص:۷۲، مطلب فی استحقاق القاضی والمدرس الوظیفۃ فی یوم البطالۃ، طبع سعید)۔