معاملات
مقرّرشدہتنخواہسےزیادہبذریعہمقدمہلینا
سوال:۔
میں ایک جگہ کام کرتا تھا، اب جی بھرگیا ہے، ۵ سال ہوگئے ہیں نوکری کرتے ہوئے۔ مالک کے ساتھ جو معاہدہ تھا یعنی تنخواہ مقرّر تھی وہ مجھے ملتی رہی ہے۔ ہر ماہ مقرّر کی ہوئی تنخواہ مجھے برابر ملتی رہی ہے۔ اب ایک آدمی نے مشورہ دیا ہے کہ تم کورٹ میں مقدمہ کرو، کافی رقم ملے گی۔ جبکہ مجھے میرا حق یعنی جو تنخواہ مقرّر تھی وہ مجھے ملتی رہی ہے۔ اب اگر میں مقدمہ کروں اور مجھے جو رقم ملے گی اس رقم کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، کیا یہ جائز ہے؟
جواب:۔
آپ سے جتنی تنخواہ کا معاہدہ ہوا تھا وہ تو آپ کے لئے حلال ہے، اس سے زیادہ اگر آپ وصول کریں گے تو غصب ہوگا، اگر آپ کو وہ تنخواہ کافی نہیں تو آپ معاہدہ فسخ کرسکتے ہیں۔(۱)
- (۱) الْإجارۃ بعد ما إنعقدت صحیحۃ لَا یجوز للآجر فسخھا بمجرد زیادۃ الخارج فی الأجرۃ۔ (شرح المجلۃ ص:۲۴۵، المادّۃ:۴۴۱، طبع حبیبیہ کوئٹہ)۔

