بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

معاملات

دفتری‌اُمور‌میں‌دیانت‌داری‌کے‌اُصول

سوال:۔

دفاتر میں جس افسر کے ماتحت ہوتے ہیں، اس سے ہم کم و بیش ایک دو گھنٹہ پہلے چلے جانے کی ’’مستقل‘‘ (روزانہ کی) اجازت لے سکتے ہیں تاکہ دُوسرے کام بھی نمٹائے جاسکیں، جبکہ دفاتر میں کام زیادہ نہیں ہوتا اور جو ہوتا بھی ہے تو جلدی نمٹایا جاسکتا ہے یا اگلے روز بھی کیا جاسکتا ہے۔ اجازت ملنے پر اس عرصے کی تنخواہ جائز ہوگی، جبکہ تنخواہ افسر نہیں حکومت دیتی ہے؟ افسر بھی کسی کا ماتحت ہوتا ہے اور وہ بھی کسی اور کا، اس طرح ہر کوئی کسی اور کا ماتحت ہے، تو اجازت پر عمل پیرا اپنے افسر کے ہوں جس کے سامنے جواب دہی کرنی ہوتی ہے یا حکومت کے جس کو جوابدہی طلب نہیں کرنی ہوتی ہے؟ (اس سوال کے ہر پہلو کا جواب دیں ورنہ تشنگی رہے گی)۔

سوال:۔

دفتری اوقات میں جب کوئی کام نہ ہو تو سیٹ چھوڑ کر یا اِدھر اُدھر جاسکتے ہیں، لائبریری، کینٹین یا آفس سے باہر کسی ذاتی کام سے؟ آخر ٹوائلٹ وغیرہ کے لئے تو سیٹ چھوڑنی پڑتی ہے؟

سوال:۔

آفس ٹائم صبح ۸ سے ۳۰:۲ ہے، مگر اِنچارج نے ۹ سے ۳۰:۲ تک آنے کو کہا ہے اور خود بھی ۹ بجے آتے ہیں، تو بات اِنچارج کی مانی جائے جو ہم سے کام لیتا ہے یا حکومت کی جو تنخواہ دیتی ہے اور جس نے وقت مقرّر کیا ہے؟

سوال:۔

جس افسر نے ۹ سے ۳۰:۲ بجے تک کا وقت مقرّر کیا، وہ چلے گئے، ان کی جگہ دُوسرے آئے مگر انہوں نے کچھ بھی اس سلسلے میں نہ کہا اور وہ بھی ۹بجے آتے ہیں، تو بات اسی پہلے والے افسر کی چلتی رہے گی یا خود کوئی وقت مقرّر کرلیں؟

سوال:۔

دفتری وقت صبح ۸ سے ۳۰:۲ بجے تک ہے، مگر افسران اور ماتحت سب ۹بجے آتے ہیں اور کام بھی ۹بجے سے شروع ہوتا ہے، تو ۸بجے سے آکر کیا کریں؟

سوال:۔

آدھا گھنٹہ یا ایک گھنٹہ دفتری اوقات سے دیر سے پہنچیں مگر یہ وقت چھٹی ہوجانے پر دفتر میں رہ کر پورا کریں تو شروع کے آدھا گھنٹہ یا ایک گھنٹہ غیر حاضر رہنے سے اس وقت کی تنخواہ ناجائز ہوجائے گی یا وقت پورا کردینے سے جائز ہوجائے گی؟

سوال:۔

جب معلوم ہو کہ اب کوئی کام ہی نہیں ہے تو واپس جاسکتے ہیں جبکہ چھٹی کا وقت نہ ہوا ہو؟

سوال:۔

اگر کسی دن ذاتی کام ہو تو افسر سے اجازت لے کر جاسکتے ہیں؟ اور اس دن کے بقیہ وقت کی تنخواہ جائز ہوگی؟

سوال:۔

نما زیا لنچ کے لئے جو وقفہ ملتا ہے، اس دوران دفتر میں اپنی سیٹ پر بیٹھے رہیں چاہے کوئی کام ہو یا نہ ہو، اور اس طرح سے نماز یا لنچ کے لئے ملنے والے اس وقفے کے برابر پہلے جاسکتے ہیں؟ یعنی اگر یہ وقفہ آدھا گھنٹے کا ہو تو چھٹی کے مقرّرہ وقت سے آدھا گھنٹہ پہلے جاسکتے ہیں؟

سوال:۔

نماز بعد میں پڑھ سکتے ہیں، کیونکہ دفتر میں اندرونی کپڑے بدلنے میں کافی دِقت ہوتی ہے جو کہ پیشاب کے بعد یا ویسے بھی قطرے آجانے سے خراب ہوجاتے ہیں؟

سوال:۔

دفتری کاغذ، قلم و دیگر اشیاء کو ذاتی استعمال میں لاسکتے ہیں جبکہ استعمال میں لانے پر کوئی روک ٹوک نہیں؟

سوال:۔

ملازمت ملنے سے پہلے معائنہ کرانا ہوتا ہے، جو لوگ معائنہ کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ چائے پانی کے پیسے لاؤ، اگر نہیں دیا جاتا تو کوئی رُکاوٹ کھڑی کردیتے ہیں، جس کا نتیجہ بے روزگاری میں نکلے گا، اگر ہم مجبور ہوں یا اپنی خوشی سے ان لوگوں کا حق یا محنت سمجھ کر بے روزگاری سے بچنے کے لئے انہیں پیسے دے دیں تو یہ رشوت ہوگی؟

سوال:۔

جس افسر نے سفارش کرکے ملازمت دِلوائی اس کے بعد اب وہ کہتے ہیں کہ اس خوشی میں ہماری دعوت کرو اور کچھ غیرحاضریوں کو حاضری لگادینے کی خوشی میں بھی، جبکہ کام کرنے سے پہلے کوئی معاہدہ نہ تھا، اب ان کی دعوت کرنے پر یہ رشوت ہوگی؟

جواب:۔

اس مسئلے میں اُصول یہ ہے کہ محکمے کے قانون کے لحاظ سے دفتر کی حاضری کا ایک وقت مقرّر ہے اور اسی کی ملازم کو تنخواہ دی جاتی ہے، اس لئے مقرّرہ وقت سے غیرحاضری جائز نہیں، اور غیرحاضری کے وقت کی تنخواہ بھی حلال نہیں۔(۱) لیکن بعض اِستثنائی صورتیں ایسی ہوسکتی ہیں کہ ان پر قانون بھی لچک اور رعایت کا معاملہ کرتا ہے، مثلاً: کسی ملازم کو فوری طور پر جانے کی اچانک ضرورت پیش آگئی، ایسی اِستثنائی صورتوں پر افسرِ مجاز سے اجازت لے کر جانے کی گنجائش ہے، لیکن قبل از وقت جانے کا معمول بنالینا قانون کی نظر میں جرم ہے، اس لئے جو حضرات قبل از وقت دفتر سے جانے کا معمول بنالیتے ہیں ان کے لئے غیرحاضری کے اوقات کی تنخواہ حلال نہیں ہوگی، خواہ وہ افسر سے اجازت لے کر جاتے ہوں، اگر وہ ان اوقات کی تنخواہ لیں گے تو حرام کھائیں گے اور ان کے ساتھ ان کو اِجازت دینے والا افسر بھی گناہگار ہوگا اور قیامت کے دن پکڑا ہوا آئے گا۔(۲) رہی یہ صورت کہ دفتر کا سارا کام نمٹادیا گیا اور اَب ملازمین فارغ بیٹھے ہیں، کیا ان کو وقت ختم ہونے تک دفتر میں حاضر رہنا لازم ہے؟ یا یہ کہ وہ اس صورت میں افسرِ مجاز کی اجازت سے چھٹی کرسکتے ہیں؟ میرے خیال میں چونکہ دفاتر میں کام کا رش رہتا ہے اور فائلوں کے ڈھیر لگے رہتے ہیں اس لئے یہ صورت پیش ہی نہیں آسکتی کہ ملازمین دفتر کا سارا کام نمٹاکر فارغ ہو بیٹھیں۔ تاہم اگر شاذ و نادر ایسی صورت پیش آئے تو اس کے بارے میں بھی محکمۂ قانون ہی سے دریافت کرنا چاہئے کہ آیا ایسی صورت میں بھی ملازمین کو وقت ختم ہونے تک دفتر کی پابندی لازم ہے یا وہ کام ختم کرکے گھر جانے کے مجاز ہیں؟ اگر قانون ان کو ایسی حالت میں گھر جانے کی اجازت دیتا ہے تو اس وقت کی غیرحاضری کی تنخواہ ان کے لئے حلال ہوگی اور اگر قانون اجازت نہیں دیتا تو تنخواہ حلال نہیں ہوگی۔ البتہ اگر کسی ملازم کے ذمہ متعین کام ہے اور اس سے یہ کہہ دیا گیا ہے کہ تمہیں یہ کام پورا کرنا ہے خواہ یہ مقرّرہ کام تھوڑے وقت میں کردیا یا زیادہ میں، تو اس کو کام پورا کرکے جانے کی اجازت ہوگی۔(۳)

جواب:۔

اُوپر اس کا جواب بھی آچکا ہے، اگر قانون سیٹ چھوڑنے کی اجازت دیتا ہے تو کوئی حرج نہیں، ورنہ بغیر ضرورت کے سیٹ چھوڑنا جائز نہیں ہوگا۔(۴)

جواب:۔

قانون کی رُو سے اِنچارج کی یہ بات غلط ہے، اس پر عمل جائز نہیں، اور اتنے وقت کی تنخواہ حلال نہیں ہوگی۔(۵)

جواب:۔

قانون کے خلاف نہ پہلے کو اجازت ہے نہ دُوسرے کو، ہاں! قانون ان افسروں کو اس رعایت کی اجازت دیتا ہو تو ان کی بات پر عمل کرنا جائز ہے، ورنہ وہ افسر بھی خائن ہوں گے اور ان کی بات پر عمل کرنے والے ملازم بھی۔

جواب:۔

دفتر آکر بیٹھ جائیں اور تنخواہ حلال کریں۔(۶)

جواب:۔

جی نہیں، دفتر کا جو وقت مقرّر ہے اس میں خیانت کرکے زائد وقت میں کام نمٹانے سے تنخواہ حلال نہیں ہوگی۔(۷)

جواب:۔

اس کا جواب اُوپر آچکا ہے کہ اگر آپ کے ذمہ مقرّرہ وقت کی پابندی نہیں، بلکہ معین کام پورا کرنے کی پابندی ہے تو کام پورا کرنے کے بعد آپ آزاد ہیں، اور اگر آپ کے ذمہ وقت پورا کرنے کی پابندی ہے خواہ کام ہو یا نہ ہو تو آپ نہیں جاسکتے۔(۸)

جواب:۔

اگر غیرقانونی طریقے پر چھٹی کی تو تنخواہ حلال ہونے کا کیا سوال؟

جواب:۔

جی نہیں، یہ وقفہ ضروریات پوری کرنے کا ہے، کام کا وقت نہیں، اوقاتِ کار کے بدلے میں آپ اس وقت کام کرکے بری الذمہ نہیں ہوسکتے۔

جواب:۔

نماز کو اگر اس کے مقرّرہ وقت سے مؤخر کریں گے تو اللہ تعالیٰ کے مجرم اور اپنی ذات سے خیانت کے مرتکب ہوں گے۔(۹) آپ ایسا لباس پہن کر کیوں جائیں جس کے ساتھ نماز نہیں پڑھ سکتے یا جس کو نماز کے لئے بدلنے کی ضرورت پیش آئے؟

جواب:۔

اگر حکومت یا محکمے کی طرف سے اجازت ہے تو دفتری اشیاء کو ذاتی استعمال میں لاسکتے ہیں، ورنہ نہیں۔(۱۰)

جواب:۔

رشوت خنزیر کی ہڈی ہے اور رِشوت لینے والے سگانِ خارشتی یا سگانِ دیوانہ ہیں، اگر وہ اس حرام کی ہڈی کے بغیر گزند پہنچاتے ہیں تو مجبوری ہے۔(۱۱)

جواب:۔

سفارش کا معاوضہ رشوت ہے۔(۱۲)

  1. (۱) ولیس للخاص أن یعمل لغیرہ، ولو عمل نقص من أجرتہٖ بقدر ما عمل ۔۔۔إلخ۔ (شامیۃ ج:۶ ص:۷۰، کتاب الْإجارۃ، باب ضمان الأجیر، طبع سعید)۔
  2. (۲) ﵟ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ ﵞ یعنی لَا تعاونوا علٰی إرتکاب المنھیات ولَا علی الظلم۔ (تفسیر مظھری ج:۳ ص:۱۹)۔
  3. (۳) والْإجارۃ لَا تخلو إما أن تقع علٰی وقت معلوم أو علٰی عمل معلوم، فإن وقعت علٰی عمل معلوم فلا تجب الأجرۃ إلّا بإتمام العمل ۔۔۔ وإن وقعت علٰی وقت معلوم فتجب الأجرۃ بمضی الوقت إن ھو إستعملہ أو لم یستعملہ۔ (النتف فی الفتاویٰ ص:۳۳۸، کتاب الْإجارۃ)۔
  4. (۴) ولیس للخاص أن یعمل لغیرہ، ولو عمل نقص من أجرتہٖ بقدر ما عمل ۔۔۔إلخ۔ (شامیۃ ج:۶ ص:۷۰، کتاب الْإجارۃ، باب ضمان الأجیر، طبع سعید)۔
  5. (۵) وفی فتاویٰ الفضلی وإذا استأجر رجلًا یومًا بعمل کذا فعلیہ أن یعمل ذالک العمل إلٰی تمام المدۃ ولَا یشتغل بشیء آخر سوی المکتوبۃ۔ (شامی ج:۶ ص:۷۰، کتاب الْإجارۃ باب ضمان الأجیر، مطلب لیس للأجیر الخاص ۔۔۔إلخ)۔
  6. (۶) تفصیل کے لئے دیکھئے: معارف القرآن ج:۸ ص:۶۹۴۔
  7. (۷) والْإجارۃ لَا تخلو إما أن تقع علٰی وقت معلوم أو علٰی عمل معلوم، فإن وقعت علٰی عمل معلوم فلا تجب الأجرۃ إلّا بإتمام العمل ۔۔۔ وإن وقعت علٰی وقت معلوم فتجب الأجرۃ بمضی الوقت إن ھو إستعملہ أو لم یستعملہ۔ (النتف فی الفتاویٰ ص:۳۳۸، کتاب الْإجارۃ)۔
  8. (۸) (والثانی) وھو الأجیر الخاص ویسمٰی أجیر وحد (وھو من یعمل لواحد عملًا مؤقتًا بالتخصیص ویستحق الأجر بتسلیم نفسہٖ فی المدۃ وإن لم یعمل ۔۔۔إلخ۔ (درمختار ج:۶ ص:۶۹، کتاب الْإجارۃ)۔
  9. (۹) قَالَ تَعَالَى ﵟ إِنَّ ٱلصَّلَوٰةَ كَانَتۡ عَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ كِتَٰبٗا مَّوۡقُوتٗا ﵞ النساء ١٠٣۔
  10. (۱۰) وعن أبی حرۃ الرقاشی عن عمہٖ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ألَا لَا تظلموا! ألَا لَا یحل مال امریء إلّا بطیب نفس منہ۔ (مشکٰوۃ ج:۱ ص:۲۵۵، باب الغصب والعاریۃ)۔
  11. (۱۱) قَالَ تَعَالَى ﵟ فَمَنِ ٱضۡطُرَّ غَيۡرَ بَاغٖ وَلَا عَادٖ فَلَآ إِثۡمَ عَلَيۡهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٌ ﵞ البقرة ١٧٣۔ أیضًا: الضرورات تبیح المحظورات۔ (الأشباہ والنظائر ص:۸۵، طبع بیروت)۔ قال العلامۃ ابن عابدین: ما یدفع لدفع الخوف من المدفوع إلیہ علٰی نفسہ أو مالہ حلال للدافع حرام علی الآخذ، لأن دفع الضرر عن المسلم واجب ولَا یجوز أخذ المال لیفعل الواجب ۔۔۔إلخ۔ (شامی ج:۵ ص:۳۶۲، مطلب فی الکلام علی الرشوۃ، طبع ایچ ایم سعید)۔
  12. (۱۲) وفی الکشاف المصطلحات: الرشوۃ لغۃ ما یتوصل بہ إلی الحاجۃ بالمضایقۃ بأن تصنع لہ شیئًا لیصنع لک شیئًا آخر۔ (مجموعۃ قواعد الفقہ ص:۳۰۷)۔ أیضًا: أخذ المال لیسوی أمرہ عند السلطان دفعا للضرر أو جلبًا للنفع وھو حرام علی الآخذ ۔۔۔إلخ۔ (شامی ج:۵ ص:۳۶۲، طبع ایچ ایم سعید)۔