بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

معاملات

لطیفہ‌گوئی‌و‌داستان‌گوئی‌کی‌کمائی‌کیسی‌ہے؟

سوال:۔

ایک آدمی ہے جو لطیفہ گوئی، داستان گوئی وغیرہ کرکے کمائی کرتا ہے، دُوسرے لفظوں میں اس نے اس کام (لطیفہ گوئی وغیرہ) کو اپنا ذریعۂ معاش بنا رکھا ہے، کیا ایسے شخص کی کمائی حلال ہے یا حرام؟ ایسے شخص سے ہدیہ لینا جائز ہے؟ ایسا آدمی اس کمائی سے فریضۂ حج ادا کرسکتا ہے؟ اگر ہدیہ لے لیا ہے تو پھر اس کو صَرف کس طرح کیا جائے؟ آج کل تھیٹر ہال بنے ہوتے ہیں اور ان میں اسٹیج شو مثلاً ڈرامے، ناچ گانے وغیرہ ہوتے ہیں، ایسے تھیٹر ہال کے مالک، اداکار، ہدایت کار وغیرہ کی کمائی حلال ہے یا حرام؟ اور کیا ایسی کمائی سے حج وغیرہ کیا جاسکتا ہے؟ کیا ایسے آدمی سے ہدیہ لیا جاسکتا ہے؟ اگر ہدیہ لے لیا ہے تو اس کو جائز کس طرح کیا جاسکتا ہے؟

جواب:۔

لطیفہ گوئی اگر جائز حدود میں ہو تو گنجائش ہے، مگر اس کو پیشہ بنانا مکروہ ہے۔(۱) اسٹیج شو، ڈرامے اور ناچ گانے کی کمائی حرام ہے۔(۲) ایسی کمائی سے حج کرنا ایسا ہے جیسے کوئی اپنے بدن اور کپڑوں پر گندگی مل کر کسی بڑے کی زیارت کے لئے اس کے گھر جائے۔(۳)

  1. (۱) لَا تکثروا الضحک، فإن کثرۃ الضحک تمیت القلب۔ (کنز العمال ج:۳ ص:۴۸۸ الحدیث رقم: ۷۵۵۱)۔
  2. (۲) ولَا یجوز الْإستئجار علی الغناء والنوح وکذا سائر الملاھی لأنہ إستئجار علی المعصیۃ، والمعصیۃ لَا تستحق بالعقد۔ (ھدایۃ ج:۳ ص:۳۰۳، باب إجارۃ فاسدۃ)۔
  3. (۳) عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ان اللہ طیّب لَا یقبل إلّا طیّبًا، وإن اللہ أمر المؤمنین بما أمر بہ المرسلین فقال: یٰٓـأیھا الرسل کلوا من الطیّبات واعملوا صالحًا ۔۔۔إلخ۔ (مشکٰوۃ ص:۲۴۱، طبع قدیمی)۔