بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

معاملات

درزی‌کا‌مردوں‌کے‌لئے‌ریشمی‌کپڑا‌سینا

سوال:۔

زید ایک ٹیلر ماسٹر ہے اور اوقاتِ کار کے درمیان اَحکاماتِ الٰہیہ کی پابندی اور نماز کے فرائض باقاعدگی سے ادا کرتا ہے، کیا یہ پیشہ حلال روزی پر مبنی ہے؟ کیونکہ زید مردوں کے ریشمی کپڑے سیتا ہے جبکہ مرد کو ریشم پہننا منع ہے، اب اگر مردوں کے کپڑے (جو کہ ریشم کے تار کے ہوتے ہیں) نہ سیئے گا تو گویا اپنی روزی کو لات مارے گا، اگر وہ سیتا ہے تو گناہ کے کام میں معاونت کا حصہ دار کہلاتا ہے۔

جواب:۔

خالص ریشم مردوں کے لئے حرام ہے،(۱) لیکن مصنوعی ریشم حرام نہیں، آج کل عام رواج اسی کا ہے، خالص ریشم تو کوئی امیر کبیر ہی پہنتا ہوگا۔ خالص ریشم کا کپڑا مردوں کے پہننے کے لئے سینا مکروہ تو ضرور ہے،(۲) مگر درزی کی کمائی حرام نہیں۔

  1. (۱) لَا یحل للرجال لبس الحریر ویحل للنساء لأن النبی صلی اللہ علیہ وسلم نھٰی عن لبس الحریر والدیباج وقال إنما یلبسہ من لَا خلاق لہ فی الآخرۃ ۔۔۔إلخ۔ (ھدایۃ ج:۴ ص:۴۵۵، کتاب الکراھیۃ)۔
  2. (۲) ﵟ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ ﵞ المائدة ٢یعنی لَا تعاونوا علٰی إرتکاب المنھیات ولَا علی الظلم۔ (تفسیر مظھری ج:۳ ص:۱۹، طبع اشاعت العلوم دھلی)۔